عمر عبداللہ کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی کی بھارتی حکومت پر بلا تاخیر جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی پر زوردیاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کے اس مطالبے کو مزید موخر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ معاشرے کے تمام طبقات اس کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس میں مذہبی رہنمائوں، تاجروں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ماہرین تعلیم، ٹرانسپورٹرز اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریبا 170نمائندوں نے شرکت کی اور متفقہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام شرکا نے زور دیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے، اس لیے بھارتی حکومت کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔عمر عبداللہ نے بتایا کہ اجلاس میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے علاوہ 20جولائی کو نئی دلی کے علاقے جنتر منتر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج کی بھی توثیق کی گئی۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انڈیا اتحاد، عام آدمی پارٹی، شرومنی اکالی دل، بیجو جنتا دل، بہوجن سماج پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔







