پیلٹ گنز: قہر سے تمسخر تک

ارشد میر
تاریخ میں بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مندمل نہیں ہوتے بلکہ ہر نئے واقعے کے ساتھ پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہزاروں پیلٹ متاثرین کے لیے بھارتی فلم نگری ” بالی ووڈ” کی آئندہ ریلیز ہونے والی فلم "چوہان” بھی ایسا ہی ایک واقعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اس فلم کے ٹیزر میں پیلٹ گنز کو محض "Limited Damage” یعنی "محدود نقصان” پہنچانے والا ہتھیار قرار دیا گیا۔ ہندوتوا کے زیر دباؤ اور انسانی المیوں پہ کاروبار کرنے والے بھارتی فلم سازوں کے لیے شاید یہ ایک مکالمہ ہو لیکن ان کشمیریوں کے لیے جن کی آنکھوں کی روشنی ہمیشہ کے لیے چھین لی گئی، جن کے چہروں میں آج بھی سینکڑوں دھاتی چھرّے پیوست ہیں اور جن کے خواب ہمیشہ کے لیے تاریکی میں دفن ہو چکے ہیں، یہ مکالمہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے کم نہیں۔
اسی درد کا اظہار کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کرتے ہوئے کہا کہ نئی بالی ووڈ فلم میں کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال کو "محدود نقصان” قرار دے کر ہزاروں متاثرین کے دکھوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں، چہروں اور جسموں میں آج بھی پیلٹ کے چھرّے پیوست ہیں، ان کے لیے اس قسم کی منظرکشی ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ ان متاثرین کو پروپیگنڈے نہیں بلکہ ہمدردی، علاج، انصاف اور احترام کی ضرورت ہے اور فلم سازوں کو موجودہ شکل میں اس فلم کی نمائش سے گریز کرنا چاہیے۔
میرواعظ کا ردعمل دراصل معروف بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی اس تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا جس نے پوری دنیا کی توجہ اس متنازع فلم کی طرف مبذول کرائی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فلم کے ٹیزر میں بھارتی اداکار اجے دیوگن ایک بھارتی سکیورٹی افسر کے کردار میں کشمیری مظاہرین کا سامنا کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیلٹ گنز صرف "محدود نقصان” پہنچاتی ہیں۔ مگر الجزیرہ نے اس دعوے کے بالمقابل ان لوگوں کی داستانیں پیش کیں جن کی زندگیاں انہی پیلٹ گنز نے ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیں۔
رپورٹ میں فیروز اسلم کا ذکر کیا گیا جو 2016ء میں سوپور میں ایک احتجاج کے دوران پیلٹ گن کا نشانہ بنے اور ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر فلم بنانے والے صرف ایک دن کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر زندگی گزاریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ روشنی سے محروم ہو جانا کیا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فلم سازوں نے نہ صرف ہزاروں متاثرین کے جسمانی درد بلکہ ان کی نفسیاتی اذیت، معاشی تباہی اور ان کے خاندانوں کی زندگی بھر کی مشکلات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔اسی رپورٹ میں مسرور خالد کی دردناک داستان بھی شامل ہے جو 2016ء ہی میں پیلٹ فائرنگ سے نابینا ہوئے۔ آج بھی ان کے چہرے میں سینکڑوں دھاتی چھرّے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم نے ان کے وہ تمام زخم تازہ کر دیے جنہیں وہ برسوں سے اپنے سینے میں دفن کیے ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان جیسے ہزاروں کشمیری آج بھی نہ صرف جسمانی معذوری بلکہ سماجی تنہائی، بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور مسلسل علاج کے بوجھ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کشمیر میں پیلٹ گنز کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
اس سوال کا جواب ہمیں 2008ء، 2010ء اور 2016ء کے ان تین عوامی انتفاضوں میں ملتا ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ جون 2008ء میں امرناتھ شرائن بورڈ کو خلاف ضابطہ99 ایکڑ زمین الاٹ کئے جانے کے تنازع کے خلاف لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ انتفادہ ستمبر تک جاری رہا۔ بھارتی قابضین نے مظاہروں کو چلنے کے لئے روائتی و پیلٹ گنز اور اشک آور گیس کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 125 کشمیری شہید اور 2000 سے زائد زخمی کئے جن میں سینکڑوں پیلٹ چھروں سے معذور ہوئے۔
2010ء میں کپواڑہ کے چار نوجوانوں کو دہلی میں نوکری کا جھانسہ دیکر کنٹرول لائن پر فرضی جھڑپ میں شہید کرکے پاکستانی درانداز قرار دئے جانے اور اس سے پہلے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے کشمیری عوام میں بڑھتے ہوئے اشتعال کے باعث کشمیر میں مظاہرے شروع ہوئے جو بعدازں اسوقت ایک ہمہ گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوئے جب بھارتی قابضین نے سرینگر میں کرکٹ کھیلتے ایک 17 سالہ لڑکے طفیل متو کے سر پر شل مار کر شہید کیا۔ قابض فورسز نے 2008 کے مقابلہ میں اس بار زیادہ وحشیانہ پن کا مظاہرہ اور گولیوں، آہنی پیلٹ چھروں اور اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ پیپر گیس کا بھی استعمال کیا ۔ جون تا اکتوبر تک جاری رہنے والے مظاہروں میں کئی لڑکیوں سمیت 121 کشمیری نوجوان شہید اور 2500 کے قریب زخمی ہوئے۔ پولیس نے زخمیوں کی تعداد 504 بتلائی جبکہ صرف ایک صورہ ہسپتال سرینگر ہی میں 599 زخمی داخل ہوئے تھے۔ بیشتر پیلٹس سے زخمی ہوئے جن میں سینکڑوں ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔
پھر جولائی 2016ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ایسا عوامی طوفان اٹھا جس نے پورے مقبوضہ علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اکتوبر 2017 تک 8 ماہ جاری رہنے والے اس انتفادہ کے دوران 120 سے زائد نوجوان شہید اور 9042 زخمی ہوگئے جن میں ہزاروں پیلٹس سے متاثر و معذور ہوگئے۔ قابض حکام نے 782 کے پیلٹ کا شکار ہونے کی تصدیق کی۔
ان تینوں عوامی تحریکوں کے دوران سب سے مہلک اور انسانی زندگی کو جان کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی لحاظ سے تباہ کرنے کی حامل پیلٹ گنز ہی ثابت ہوئیں جبکہ بھارتی حکام تو دور، فنون کے دعویدار بھارتی بھی اس جرم عظیم کے احساس اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے پیلٹ کو "غیر مہلک ہتھیار” قرار دیکر اپنی فورسز کے جرائم کو Glorifyکرتے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی نفرت پر مبنی ہندو قوم پرستی کو مالی منفعت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ قبیح روش یقینا انسانیت کی تذلیل سے کم نہیں ہے۔
پیلٹ گن سینکڑوں باریک دھاتی چھرّے ایک ساتھ فائر کرتی ہے جو انسانی جسم، خصوصاً چہرے اور آنکھوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ جن یورپی ممالک نے 18 ویں اور 19 ویں صدی میں اسکو بناکر جدت کے مراحل سے گذارا انھوں نے بالاخر اسکو مہلک قرار دیکر انسانوں کے خلاف استعمال پر پابندی عائد کردی۔ مگر دنیا کی "مہان” جمہوریہ نے کشمیریوں کو کچلنے کے لئے اس ہتھیار کو خریدا اور اس بڑے اور وحشیانہ انداز میں استعمال کیا کہ اسکے موجد بھی کانپ اٹھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں، مقبوضہ کشمیر کے اسپتالوں اور طبی ماہرین کی رپورٹس کے مطابق جون 2008 سے اکتوبر 2017 تک قریب از 10 ہزار کشمیری نوجوان، خواتین اور بچے پیلٹ کا شکار ہوئے اور ان میں 1800 مکمل یا جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوئےجبکہ ہزاروں دیگر کے جسموں میں آج بھی پیلٹ کے چھرّے موجود ہیں۔
ان متاثرین میں ایک ایسا نام بھی ہے جسے سن کر پتھر دل انسان بھی کانپ اٹھتا ہے۔ وہ نام ہے ڈیڑھ سالہ حبہ کا۔
حبہ اس وقت اپنی والدہ کی گود میں تھی جب بھارتی فورسز نے پیلٹ گن فائر کی۔ وہ نہ کسی احتجاج میں شریک تھی، نہ کوئی نعرہ لگا رہی تھی، نہ اس کے ہاتھ میں کوئی پتھر تھا۔ مگر چھرّے اس کے ننھے چہرے اور آنکھوں میں پیوست ہوگئے۔ اس معصوم بچی کی چیخیں آج بھی کشمیر کی فضا میں گونجتی محسوس ہوتی ہیں۔ آخر ایک شیر خوار بچی سے کس جرم کا انتقام لیا جا رہا تھا؟
اسی طرح 14 سالہ انشا مشتاق کی داستان پوری دنیا جانتی ہے۔ وہ صرف اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھیں جب پیلٹ گن کے چھرّے ان کی دونوں آنکھوں میں پیوست ہوگئے۔ ایک ذہین طالبہ، جس کے خواب آسمان کی وسعتوں کو چھو رہے تھے، یکایک اندھیروں کی نذر ہوگئے۔ انشا نے صرف بینائی نہیں کھوئی بلکہ اپنا مستقبل، اپنی تعلیم اور اپنی خودمختار زندگی کا خواب بھی کھو دیا۔ثاقب بلال، فیروز اسلم، مسرور خالد، عرفان احمد اور ایسے بے شمار نوجوان آج بھی زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی اپنے والدین کا واحد سہارا تھا، کوئی یونیورسٹی کا طالب علم اورکوئی محنت مزدوری کرکے گھر چلاتا تھا۔ لیکن ایک لمحے میں ان سب کی زندگیاں بدل گئیں۔ کچھ کی آنکھیں چلی گئیں، کچھ کے چہرے مسخ ہوگئے اور کئی آج بھی ناقابل برداشت درد کے ساتھ زندہ ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، خصوصاً ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بارہا پیلٹ گنز کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے شہری آبادی، خصوصاً بچوں کے خلاف ناقابل قبول قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی بھارت سے مطالبہ کیا کہ بچوں کے خلاف اس ہتھیار کا استعمال فوری بند کیا جائے جبکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی اس کے اندھا دھند استعمال پر سوالات اٹھا چکی ہے۔ اس کے باوجود یہ ہتھیار کشمیریوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہزاروں انسانوں کی زندگیوں کو تاریکی میں دھکیل دینے والے ہتھیار کو فلمی بہادری کی علامت بنا دینا فن ہے؟ کیا معذور نوجوانوں، نابینا بچیوں اور عمر بھر کے لیے اپاہج ہو جانے والے انسانوں کے دکھ کو ایک فلمی مکالمے میں سمیٹ دینا تخلیقی آزادی کہلائے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر انسانیت کے معیار کیا رہ جائیں گے؟ یہ صرف تاریخی حقائق کی تحریف نہیں بلکہ ان ہزاروں متاثرین کے دکھوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا امتحان اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ مظلوم کے زخموں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ کشمیر کے پیلٹ متاثرین کو انصاف تو دور کی بات، اب ان کے درد کو بھی تفریح اور پروپیگنڈے کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ یہ صرف کشمیریوں کی توہین نہیں بلکہ انسانی اقدار کی بھی توہین ہے۔
پیلٹ گنز نے صرف آنکھوں کی روشنی نہیں چھینی بلکہ ماؤں کی مسکراہٹیں، باپوں کی امیدیں، بچوں کا بچپن اور نوجوانوں کے خواب بھی چھین لیے۔ جن گھروں میں کبھی تعلیم، کھیل اور خوشیوں کی باتیں ہوتی تھیں، وہاں آج بھی اسپتالوں، سرجریوں اور ادویات اور معذوری کی گفتگو ہوتی ہے۔ بہت سے خاندان علاج پر اپنی جمع پونجی لٹا چکے ہیں مگر نہ بینائی واپس آئی اور نہ ہی انصاف ملا۔ یہ المیہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر کسی بچے کی آنکھ چھین لی جائے، کسی طالبہ کا مستقبل تاریکی میں ڈوب جائے، کسی ماں کی گود میں موجود شیر خوار بچی عمر بھر کے لیے معذور ہو جائے، اور پھر برسوں بعد انہی واقعات کو فلمی مکالموں اور پروپیگنڈے کے ذریعے معمولی بنا کر پیش کیا جائے، تو یہ اجتماعی انسانی ضمیر کی ناکامی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس انسانی المیے کو محض ایک سیاسی تنازع کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے بنیادی انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر سمجھے۔ ایسے تمام ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے جو شہریوں کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کرتے ہیں، متاثرین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ایسے تمام اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے جو انسانی المیوں کو سیاسی یا فلمی بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کبھی یادداشتوں سے محو نہیں ہوتا۔ کشمیری عوام شاید اپنے جسموں میں دھنسے ہوئے چھرّوں کے ساتھ جینا سیکھ جائیں، لیکن ان کی آنکھوں سے چھینی گئی روشنی کبھی واپس نہیں آ سکتی۔ حبہ کی معصوم آنکھیں، انشا مشتاق کی خاموش تاریکی، فیروز اسلم کی حسرت بھری آواز، مسرور خالد کے چہرے میں پیوست چھرّے اور سینکڑوں دیگر متاثرین کی آہیں آج بھی دنیا سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہماری بینائی اتنی سستی تھی کہ آج اس کا مذاق بھی اڑایا جائے؟ کیا انسانی جان اور انسانی وقار کی کوئی قیمت باقی ہے؟ اگر ہے تو پھر ان زخموں کا مذاق نہیں، ان کا مداوا ہونا چاہیے۔ یہ سوال صرف کشمیر کا نہیں، پوری انسانیت کا سوال ہےاور جب تک اس کا جواب انصاف، ہمدردی اور سچائی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک تاریخ ان زخموں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔







