سفارت کاری کی بساط پر مودی سرکار کی مات
شنگھائی تعاون تنظیم کا حالیہ اجلاس، بیجنگ کی فضاؤں میں برپا وہ خاموش طوفان تھا جس نے بھارتی سفارت کاری کی چمک دمک کو ماند کر دیا۔ الفاظ کا توازن، دلائل کی کاٹ اور سچائی کی روشنی جب پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی زبان سے پھوٹی، تو بھارتی مشیر اجیت ڈوول کے پاس صرف خاموشی بچی — وہ خاموشی جو شکست کا اعلان کیے بغیر بھی سب کچھ کہہ جاتی ہے۔
بھارت نے ایک بار پھر پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر دھرنے کی ناکام کوشش کی، لیکن اس بار جواب میں صرف انکار نہیں آیا — آیا تو حقائق کی وہ گونجتی صدا، جو بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بلند ہوئی۔ سفارت کاری کا یہ منظرنامہ دنیا نے نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا کہ کب اور کہاں سچائی جھوٹ پر حاوی ہو جاتی ہے۔
مودی سرکار عالمی شرمندگی سے دو چار
وزرائے دفاع کے اجلاس میں بھارت کی دوسری سفارتی چال بھی ناکام ہوئی۔ پاکستان کے مطالبے پر جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت تو اعلامیے کا حصہ بنی، مگر بھارت کے من گھڑت بیانیے کو کوئی پذیرائی نہ ملی۔ راجناتھ سنگھ کا دستخط سے انکار گویا شکست خوردہ انا کی آخری مزاحمت تھی — ایک خاموش چیخ جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ نہ سکی۔
یہ صرف ایک اجلاس نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا — سچائی کا، تدبر کا، اور اصولی سفارت کاری کا۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا بلکہ دنیا کو آئینہ دکھا دیا کہ خطے کا اصل عدم استحکام کہاں سے جنم لیتا ہے۔
مودی سرکار کا جارحانہ بیانیہ، جو داخلی سیاست میں ووٹ سمیٹنے کا ہتھیار ہے، عالمی سفارتی میدان میں روز بروز غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اب بھارت کے الزامات پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرتی، اور پاکستان کی دلیل سے بھرپور زبان کو خاموشی کے بجائے توجہ دیتی ہے۔
بیجنگ کی اس محفل نے ثابت کر دیا: جہاں دلیل سچ کی ہو، وہاں جھوٹ کی گھن گرج بےآواز ہو جاتی ہے۔.
تحریر۔:حبیب اللہ شیخ








