امریکی پابندیوں کا دبائو ، بھارت کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کی حقیقت آشکار
نئی دہلی: امریکی پابندیوں اور ٹیرف کے بڑھتے ہوئے دبائو کے باعث روسی خام تیل کے بجائے وینزویلا سے تیل کی درآمد بڑھانے کے بھارتی فیصلے نے اس کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کی پالیسی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت خود کو طویل عرصے سے آزاد خارجہ اور توانائی پالیسی کا علمبردار قرار دیتا رہا ہے، تاہم روسی تیل کی خریداری پر واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے دبائو کے بعد بھارت خام تیل کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور دکھائی دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025کے ابتدائی مہینوں میں بھارت کی مجموعی خام تیل درآمدات میں روس کا حصہ تقریبا 36سے 37 فیصد تھا، جبکہ سالانہ درآمدات کی مالیت 45 سے 53 ارب ڈالر کے درمیان رہی۔ تاہم امریکی دبائو میں اضافے کے باعث روس سے درآمدات میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔دوسری جانب وینزویلا سے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر یومیہ 2 لاکھ 66 ہزار سے 4 لاکھ 27 ہزار بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس طرح وینزویلا بھارت کو خام تیل فراہم کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی آئل ریفائنری کمپنیوں، خصوصا ریلائنس انڈسٹریز، نے روسی سپلائی میں کمی کے ازالے کے لیے وینزویلا سے خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کی توانائی پالیسی میں بار بار سامنے آنے والے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے قبل بھی امریکی پابندیوں کے باعث بھارت نے ایرانی تیل کی درآمدات بند کر دی تھیں جبکہ چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہو گیا تھا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بھی بھارت کو شدید جغرافیائی یا اقتصادی دبا کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کے دعوے عملی طور پر کمزور پڑ جاتے ہیں اور پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔مبصرین کے مطابق اگرچہ توانائی کا تحفظ ہر ملک کی جائز ترجیح ہے، تاہم بار بار پالیسی تبدیل کرنے کو اسٹریٹجک خودمختاری کی علامت قرار دینا بھارت کی خارجہ پالیسی کے دعوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔








