خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی، بھارت کی خودمختاری پر سوال
نئی دہلی: خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے باعث بھارت کی خودمختاری پر سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر بھارت کی غیر واضح خارجہ پالیسی سخت تنقید کی زد میں ہے۔ بھارت نے اپنے دیرینہ دوست ایران کے ساتھ دھوکہ کرکے اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔بھارت سالہاسال تک ایران سے سستا تیل خریدتا رہا اوراس کو اپنا قریبی دوست کہتا رہا، لیکن امریکہ کے دباﺅ پر اسرائیل کی گود میں جابیٹھا اور جنگ سے چندروز قبل نیتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہوکراسرائیل سے اظہاریکجہتی کیا۔بھارت نے ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بہیمانہ قتل کی مذمت تک نہیں کی اورنہ ایران سے اظہار تعزیت کیا۔ پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت کی سفارت کاری بالکل خاموش رہی۔مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام کی بات کی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی صرف رابطوں اور یقین دہانی تک محدود رہا۔چین اور پاکستان کی قریبی شراکت داری نے خطے میں بھارت کی نام نہاد اہمیت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پاکستان سے بہترین تعلقات کے بعد امریکہ کیلئے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔





