انڈیا اتحاد کے رہنمائوں کا 5 اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج میں شرکت کا اعلان

نئی دہلی:بھارت میں حزب اختلاف کے ”انڈیااتحاد”کے رہنمائوں نے 5اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کے باہر غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کے 5اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف پرامن احتجاج میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن چودھری محمد رمضان نے نئی دہلی میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کے چیمبر میں منعقدہ انڈیا بلاک کے رہنمائوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام اتحادی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ 5 اگست کو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے پرامن احتجاج میں شریک ہوں۔اجلاس میں لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کی مختلف جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔چودھری محمد رمضان نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرے اورمقبوضہ علاقے کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں متعدد بار ریاستی حیثیت بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اب تک اس وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 5اگست کو پارلیمنٹ ہائوس کے کے باہر پرامن احتجاج کیا جائے گا، جس کا مقصد 5 اگست 2019 کو نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا اور ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ دہرانا ہے۔اجلاس میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس، سی پی آئی، عام آدمی پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے چودھری محمد رمضان کی تائید کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔








