برے فیصلوں کی وجہ سے کشمیریوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے
مقبوضہ علاقے کے لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، مباحثے کے شرکا کا اظہار خیال

نئی دلی: کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ایک مباحثے کے شرکاءنے کہا ہے کہ 5اگست 2019کو دفعہ 370کی منسوخی اور جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کیا گیا ہے لہذا اعتماد کی بحالی کیلئے بات چیت ناگزیر ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”بات چیت، وقار اور جمہوری مستقبل “ کے عنوان سے مباحثے کا اہتمام نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سرینگر سے حلقے سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کیا تھا ۔
مباحثے کے افتتاحی سیشن میںبھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن پروفیسر منوج جھا، سابق مصالحت کار رادھا کمار، سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
روح اللہ مہدی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر پر بامعنی بات چیت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی رضامندی کے بغیر کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے رہے کہ اس عمل میں ان کی جمہوری امنگوں کی مناسب عکاسی نہیں ہوئی ہے۔ آغاروح اللہ نے کہا کہ دفعہ 370 اور ریاست کی بحالی سے متعلق مطالبات کو دشمنی کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے اور اعتماد کی بحالی کے لئے بات چیت ناگزیر ہے۔
پروفیسر منوج جھا نے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا اسکے نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہے اور لوگوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری طلبااور شہریوں کے ساتھ بات چیت نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں ان کی فہم و سمجھ کو گہرا کیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ ہمیں سیاسی پولرائزیشن کی بجائے بات چیت کو اپنا نے کی ضرورت ہے۔رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا کہ کشمیر کو، جو کبھی اپنی خوبصورتی اور ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا تھا، برے فیصلوں اور تفرقہ انگیز قوتوں کی وجہ سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے بات چیت اور جمہوری مشغولیت کے ذریعے خطے میں امن، اعتماد اور وقار کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سابق سفارت کار وجاہت حبیب اللہ، رادھا کمار اور دیگر شرکاءنے بھی جموں و کشمیر میں آئینی اور سیاسی پیش رفت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور خطے کے لوگوں کے ساتھ جمہوری شرکت، مفاہمت اور پائیدار مشغولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ مباحثے میں ”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دولت ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ مظفر حسین شاہ، کشمیری صحافی گوہرگیلانی، جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی اور دیگربھی شریک تھے۔








