5 اگست مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کی ایک انتہائی تلخ یاد کا دن ہے، سول سوسائٹی کارکن
بی جے پی حکومت نے صحافیوں کو غیر قانونی بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کی کوریج سے روک دیا

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ علاقے میں پابندیوں ،غیر قانونی گرفتاریوں اور کالے قوانین کے ذریعے سیاسی رہنماﺅں ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کا بے دریغ سلسلہ مسلسل جاری ۔انہوںنے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو370اور 35اے دفعات کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے غیر قانونی اقدام کو سات برس مکمل ہو گئے لیکن کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں اور بھارتی فورسز کی چیرہ دستیوں نے انکی جہنم بنادی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی حکومت نے علاقے میںاظہار رائے کی آزادی اورپرامن اجتماع کے حق پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے ، اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف سفری پابندیوں، پاسپورٹ کی منسوخی اور دھمکیوں کا استعمال مسلسل جاری ہے۔
انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ سات برس میں مقبوضہ علاقے میں جبر واستبداد کے اپنے وحشیانہ ہتھکنڈوں میں تیزی لائی ہے، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق اس وقت سلب ہیں اور علاقے میں ہرطرف خوف ودہشت کا ماحول ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارتی فورسز نے 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدام کے خلاف گزشتہ روز احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور صحافیوں کو احتجاج کی کوریج سے روک دیا۔
انہوںنے کہا کہ بی جے پی حکام نے ذرائع ابلاغ خاص طور پر روزنامہ اخبارات کو ہدایت کی تھی کہ وہ 5 اگست کو ہونے والے مظاہروں کے بارے میں خبروں کو شائع کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میںجاری مسلسل بھارتی جبر ، مواصلاتی پابندیوں ، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن جیسے اقدامات نے جمہوری ملک ہونے کے نام نہاد بھارتی دعوﺅں کی قلعی مکمل طورپرکھول دی ہے۔







