مودی حکومت کی خفیہ سودے بازی: میتی، ناگا اور کوکی زو کی رضامندی کے بغیر منی پور کی زمین کا سودا

نئی دہلی : مودی حکومت ایک بار پھر منی پور کو اپنی قابلِ تصرف زمین سمجھ کر اس کے عوام کی رضامندی اور مشاورت کے بغیر فیصلے مسلط کررہی ہے اورمنی پورکا ایک علاقہ میانمار کے حوالے کرنے جارہی ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ اس سلسلے میںمحتاط اور مبہم الفاظ میں صرف یہ کہہ رہی ہے کہ بات چیت جاری ہے جبکہ نئی دہلی ضلع چندیل کے مولچم سیکٹر میں منی پور کا تقریباً 1.4 مربع میل، یعنی 3.6 مربع کلومیٹر علاقہ میانمار کے حوالے کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں نہ کوئی عوامی مباحثہ ہوا،نہ ریاستی اسمبلی کی منظوری ہوئی اور نہ ہی ان لوگوں کی رضامندی کو ضروری سمجھا گیا جن کی زمین کو سودے کی میز پر رکھا جا رہا ہے۔ میتی سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیم COCOMI پہلے ہی دوٹوک مو¿قف اختیار کر چکی ہے کہ منی پور کی علاقائی سالمیت ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک انچ زمین بھی کسی کے حوالے کی گئی تو بڑے پیمانے عوامی مزاحمت ہو گی، کیونکہ 1949 کے انضمام کے بعد ہونے والے تاریخی نقصانات کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن بھارتی حکومت کا تکبر صرف وادی امپھال کے عوام کو نظر انداز کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان پہاڑی برادریوں کو بھی روند رہی ہے جو بھارت۔میانمار کی 1,643 کلومیٹر طویل سرحد کے دونوں جانب آباد ہیں۔ ضلع چندیل جہاں بارڈر پلرز 65 اور 68 کے درمیان زمینی تبادلہ تجویز کیا گیا ہے، ایک حساس اور متنازعہ علاقہ ہے جسے ناگا اور کوکی زو دونوں اپنے آبائی یا روایتی مسکن کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ناگا برادری جو منی پور کی آبادی کا تقریباً 23 سے 26 فیصد یعنی لگ بھگ 7 لاکھ 60 ہزار افراد پر مشتمل ہے، طویل عرصے سے مشرقی اور شمالی پہاڑی علاقوں خصوصاً چندیل اور ٹینگنوپال پر اپنے تاریخی حق کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ ”ناگالم“ کے وسیع تر سیاسی تصور میں بین الاقوامی سرحد کے دونوں جانب آباد ناگا علاقے شامل ہیں۔ ناگا تنظیموں سے مشاورت کے بغیر منی پور کی مشرقی سرحد پر کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو ان کے آبائی وطن میں دہلی کی مسلط کردہ ایک اورمداخلت سمجھا جائے گا۔ کوکی زو برادری جو منی پور کی آبادی کا تقریباً 15 سے 16 فیصد، یعنی لگ بھگ 5 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور اس کے میانمار کے ساگائنگ اور چن خطوں میں آباد چن اور زو گروہوں کے ساتھ گہرے نسلی، خاندانی اور تاریخی روابط ہیں۔ ان کے لیے یہ سرحد ہمیشہ سے مصنوعی اور زمینی حقائق کے برعکس کھینچی ہوئی لکیر رہی ہے۔ متعدد کوکی زو دیہات اور خاندان سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ اس کے باوجود اس مجوزہ زمینی تبادلے پر کوکی زو تنظیموں یا مسلح گروہوں کے نمائندوں سے کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی، حالانکہ یہ فیصلہ ضلع چندیل میں ان کی آبادی، سلامتی اور سیاسی مستقبل کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔ یہ ضلع ان کے علیحدہ انتظامی ڈھانچے یا یونین ٹیریٹری کے مطالبے میں بھی شامل ہے۔ منی پور کی مجموعی آبادی تقریباً 32 لاکھ ہے۔ میتی سب سے بڑی واحد برادری ہیں جو تقریباً 43 سے 54 فیصد آبادی پر مشتمل اور زیادہ تر وادی امپھال میں آباد ہیں، جبکہ ناگا اور کوکی زو ان پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں جو ریاست کے بیشتر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ مجوزہ زمینی تبادلہ رقبے کے اعتبار سے اگرچہ محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ ایک ایسی ریاست میں کیا جا رہا ہے جو گزشتہ تین برسوں سے خونریز نسلی تشدد، سینکڑوں ہلاکتوں اور دسیوں ہزار افراد کی بے دخلی کا سامنا کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ ایک غیر شفاف، نئی دہلی کا مسلط کردہ زمینی تبادلہ جس میں مقامی رضامندی، عوامی اعتماد اور میتی، ناگا اور کوکی زو کے علاقائی دعوو¿ں کو نظر انداز کیا جائے، سرحدی انتظام نہیں بلکہ کھلی من مانی، خطرناک عاقبت نااندیشی اور سیاسی جبر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسی حکومت جو مسلسل ”قومی سالمیت“ اور ”اکھنڈ بھارت“ کے نعرے لگاتی ہے، سرحدی باڑ کے منصوبے کی تکمیل کے لیے خاموشی سے منی پور کی زمین کا ایک حصہ میانمار کے حوالے کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس زمین پر بسنے والی برادریوں کو محض ایک غیر اہم فریق سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ میتی تنظیمیں اپنا مو¿قف واضح کر چکی ہیں۔ ناگا اور کوکی زو کومذاکرات اور فیصلے کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔سیاسی مبصرین نے کہاکہ اگر نئی دہلی نے یہ راستہ اختیار کیا تو وہ صرف زمین نہیں چھوڑے گی بلکہ ایک ایسی ریاست میں موجودہ نسلی دراڑ کو مزید گہرا کرے گی جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔






