پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا

کابل : کابل میں پاکستان کے سفیرعبید الرحمن نظامانی نے کہاہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا جو ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ یوم استحصال کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے اس بنیادی حق کے حصول کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات نے اس کی توسیع پسندانہ اور سامراجی ذہنیت کو بے نقاب کیا ہے۔عبید الرحمان نظامانی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور پاکستان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کا مقصد مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے عزم کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہکشمیر اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔اس موقع پر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔تقریب کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
دریں اثناءبھارت کی جانب سے دفعہ370 اور 35A کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پرڈیلاس، ٹیکساس میں ایک کانفرنس منعقد کی گئیجس میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن اور دیرپا حل پر زور دیا گیا ہے۔ تقریب کا اہتمام فرینڈز آف کشمیر نے کیا تھا اور اس میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی، سکھز فار جسٹس کے نمائندوں اور کمیونٹی رہنماو¿ں نے شرکت کی۔ ہیوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے کانفرنس کی صدارت کی۔مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخی کےبعد وہاں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔







