ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کی کشمیری خواتین رہنماوں کو طویل قید کی سزاسنانے کی مذمت

واشنگٹن ڈی سی : ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم (ڈبلیو کے اے ایف) نے بھارتی عدالت کی طرف سے ممتاز کشمیری رہنما آسیہ اندرابی اور دو دیگر خواتین کارکنوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو طویل قیدکی سزاسنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دختران ملت کی بانی 64 سالہ آسیہ اندرابی نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت15 سال سے زیادہ بھارتی جیلوں میں گزارے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ڈبلیو کے اے ایف کا کہنا ہے کہ یہ الزامات فضول اور من گھڑت ہیں اور یہ خواتین کشمیریوں کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کی وکالت کر رہی ہیں۔ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی اسی طرح کے الزامات کے تحت 30 سال جیل میں گزار چکے ہیں۔ ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کریں اور بھارت کو تینوں رہنماﺅںکو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے پر آمادہ کریں۔ فورم نے عدالتی عمل میں شفافیت اور جوابدہی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور یواے پی اے جیسے کالے قوانین پر نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ان کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق بنایاجاسکے۔







