مقبوضہ جموں و کشمیر

سول سوسائٹی فورم کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر اظہارتشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی فورم نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک اہم سماجی اور اقتصادی مسئلہ قرار دیا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں پڑھے لکھے، ہنر مند اور قابل نوجوان مرد اور خواتین محدود سرکاری ملازمتوں کے مواقع کے انتظار میں اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال ضائع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکاری بھرتی اہم ہے لیکن یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جذب نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ ذہنیت کہ سرکاری ملازمت ہی وقار، استحکام اور سماجی احترام کا واحد ذریعہ ہے، بدلنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی ملازمت، صنعت کاری، زراعت، باغبانی، سیاحت، دستکاری، ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، ہنر مند تجارت اور چھوٹے کاروبار یکساں طورپر باوقار اور پائیدار ذریعہ معاش فراہم کر سکتے ہیں۔قیوم وانی نے کہا کہ نوجوانوں کو نئی مہارتیں اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور آن لائن خدمات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیرئیر کونسلنگ کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بننا چاہیے اوراسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کو نوجوانوں میںروزگار کے رجحانات کو تبدیل کرنے کے بارے میں رہنمائی کرنی چاہیے اور انہیں حقیقی کیریئر کے انتخاب میں مدد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو ہنر اور کاروبار کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کریں نہ کہ صرف سرکاری ملازمتوں کے حصول کی ترغیب دیں۔

انہوں نے کہاکہ فورم اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک سیمینار منعقد کرے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ بے روزگاری کے سنگین نتائج ہیں جن میں تاخیر سے شادیاں، مایوسی اور بڑھتے ہوئے سماجی مسائل شامل ہیں۔یہ نقصان محض معاشی نہیں بلکہ یہ انسانی صلاحیت کا نقصان ہے۔قیوم وانی نے کہاکہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ، ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں ہیں۔ انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ مناسب رہنمائی، ہنر مندی کی نشوونما، مواقع اور کام کے تئیں سماجی رویہ میں تبدیلی ہے۔ انتظار میں گزارا جانے والا ہر سال ایک ایسا سال ہے جس کی واپسی نہیں ہو سکتی۔ انتظار کبھی بھی کیریئر نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مستقبل کافی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ نوجوان نسل کی توانائی اور صلاحیت کو کس حد تک مو¿ثر طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button