کشمیری اپنی عظیم حریت پسندانہ روایت کے مطابق آج ایک بار پھربھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں۔ ان کے پاس یہ اوربھارت کے دیگر قومی دن ایام سیاہ کے بطور منانے کی ہزار ہا وجوہات ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ بھارت کو وعدہ خلافی، سیاسی چالبازیاں اور جبر کرتے دیکھا ہے۔ انھوں بھارت کو ہمیشہ جمہوریت کی ساڑھی میں ایک ڈائن کے روپ میں ہی دیکھا ہے۔
جموں و کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ اسکا کیس اقوم متحدہ کے دفتر میں ہے جسکی 18 قراردادیں اس مسلہ کو استصواب رائے کی بنیاد پر حل کئے جانے فیصلہ صادر کرچکی اور اسکے فریقین کو اسکا پابند بنا چکی ہیں۔ بھارت نے ان قراردادوں پر دستخط کرکے گویا اقوم کی برادری میں وعدہ کرکھا ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا۔ مگراس نے کبھی اپنے اس وعدے کا ایفا نہ کیا بلکہ الٹا اس وعدہ کی یاد دہانی کرانے یا اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے پر کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیکر انھیں بدترین ریاستی ظلم اور قتل و غارت کا نشانہ بنارہا ہے۔ بھارت کے سیاسی نظام کے اندر45 سال رہ کر حق خودارادیت حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد کشمیریوں نے 1990 میں مسلح جدوجہد شروع کی جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق جائز اور legitimate ہے جو کہتا ہے کہ اگر حق خودارادیت پر امن اور سیاسی ذرایع سے حاصل نہیں ہوتا تو مسلح جدوجہد کرنا روا ہے۔ بھارت نے اسکے باوجود کشمیریوں سے کئے گئے اپنے وعدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کا احترام کرنے کے بجائے ان کے خلاف 10 لاکھ کے قریب فوج لگائی جو اب 36 برسوں سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی دھجیاں ایسے اڑارہی ہے جیسے وہ کوئی کار خیر ہو۔ قابض فوج 1990 سےاب تک قریبا 95 ہزار کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے، 2 لاکھ گرفتار شدگان میں سے 10 ہزار کے قریب کو زیر حراست غائب کردیا جن کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور جن کی گمشدگی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین نیم بیوہ ہوگئیں اور ہزاروں مائیں غم و الم میں ڈوب گئیں۔ بھارتی قابضین نے اس دوران 1 لاکھ 70 ہزار گھروں اور دیگر تعمیرات کو تباہ کیا۔ 1 لاکھ 9 ہزار بچوں کو یتیم اور 24 ہزار خواتین کو بیوہ کیا۔11 ہزار خواتین کی عزت ریزی کی جن میں کنن پوش پورہ کپواڑہ، چوٹہ بازار سرینگر اور زینہ پورہ شوپیاں جیسے اجتماعی آبروریزی کے واقعات آج بھی یاد کرنے سے انسان کانپ کے رہ جاتا ہے۔
پھر 2019 میں ہندو فسطائی مودی حکومت نے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی اور ریاستی حیثیت ہی ختم کرڈالی اور اس متنازعہ سرزمین کو ہڑپ کرلیا جس کا تنازعہ بھارت کے بانیان ہی اقوام متحدہ میں لیکر گئے تھے۔ جس کے ایک بانی رہنماء جواہر لعل نہرو کئی برسوں تک کشمیرمیں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اور اپنے پاکستانی ہم منصب لیاقت علی خان کو خطوط لکھ کے کہتے تھے کہ بھارت جبری شادیوں کا قائل نہیں ہے، وہ کشمیریوں کی رائے کا احترام کرے گا اور استصواب رائے کے ذریعہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ، بھارت کومنظور ہوگا۔ مگر پھر اسی استصواب رائے کی بات کرنے والے پر جبر کے کوڑے برسائے گئے اور اب کئی دہائیوں سے اس کا مطالبہ کرنے وال ے کشمیریوں کو آتنک وادی قرار دیکر پبلک سیفٹی ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یو اے پی اے اور دیگر کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد کشمیریوں کی تحریک مسلح سے پر امن نوعیت میں واپس متنقل ہونے اور 2019 میں کشمیریوں کو پابندیوں میں جکڑ کر قبرستان کی خاموشی قائم کئے جانے کے باوجود 90 کی دہائی کی طرح 10 لاکھ قابض افواج کو نہتے کشمیریوں کے خلاف دن رات استعمال کیا جارہا ہے۔ ایک طرف فوجی مظالم جاری تو دوسری طرف کشمیریوں کو عددی اور تہذہبی طور پر ختم کرنے کی کوششیں بھی انجام دی جارہی ہیں۔ کشمیریوں کو حاشیہ پہ دھکیلا جارہا ہے، ان کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عددی تطہیر کی جارہی ہے۔ آبادیاتی ساخت تبدیل کی جارہی ہے۔ لاکھوں بھارتی ہندوں کو متنازعہ سرمین کی باشندگی کے اسناد جاری کئے گئے۔ کشمیریوں کو اپنے ہی آنگن میں اجنبی بنایا جارہا ہے۔ اپنے قدرتی وسائل سے محروم کرکے انھیں بھارتیوں کو فراہم کئے جارہے ہیں۔ کشمیریوں کے اپنے معاشی ذرائع سے محروم کیا جارہا ہے۔ مودی نے امریکہ سے سیب منگواکر کشمیریوں کی سیب کی صنعت کو دانستہ طور پر زک پہنچائی۔ مسلم سرکاری ملازمین کو حیلے بہانوں کے تحت نوکریوں سے برخواست کیا جارہا ہے۔ سیاسی مکانیت بالکل معدوم ہے۔ زبان بندی کا عالم یہ کہ اگر کوئی سوشل میڈیا پر ایسی کوئی پوسٹ کرے جو حالات کی صحیح عکاسی اور بھارتی جھوٹ و ظلم کو بے نقاب کرتی ہو تو اسے گرفتار کرکے سالوں کے لئے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جاتا ہے۔ حالت یہ کہ بھارتی سیاسی نرسری وابستہ ان لوگوں، جنھوں نے تین تین نسلوں تک بھارت کے جابرانہ تسلط کو جمہوری پردہ فراہم کیا، کی سیاسی مکانیت بھی گذشتہ 7 برسوں میں بڑی حد تک محدود کردی گئی ہے۔
یہ تمام ظلم و ستم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے اور دوسروں کی آزادی غصب کرنے والا ملک کسی طور پر بھی کم ازکم مقبوضہ سرزمین پر آزادی کا دن منانے کا اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ تقریبا 80 سال سے قبضہ جمائے رکھنے کے باجود بھارت کو اپنا یوم آزادی منانے کے لئے کشمیریوں کو پابندیوں میں جکڑنا پڑتا ہے جو اسکے قابض ہونے کی دلیل فراہم کرتا ہے۔ اگست شروع ہوتے ہی محاصروں، تلاشیوں، ناکہ بندیوں، نگرانی اور گرفتاری کا عمل شروع ہوتا ہے۔ سرینگر کے بخشی اور جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیمز میں قومی دنوں کی کھوکھلی تقریبات کے انعقاد کے لئے بھارت کو ان مقامات کے گردونواح کی لاکھوں کی آبادیوں کو کئی کئی دن تک عملا یرغمال بنانا پڑتا ہے۔
یہ سب بتاتا ہے کہ بھارت کی حیثیت صرف قابض اور جابر کی ہے اور وہ صرف ریاستی طاقت پر ہی انحصار کرتا ہے کیونکہ وہ آج تک کشمیریوں کو سیاسی چالبازیوں، سیاسی رشوتوں، ظلم وجبر کے ہتھکنڈوں اور بدترین پروپیگنڈہ سے فتح نہیں کرسکا۔ اگر وہ آٹھ دہائیوں میں ایسا نہ کرسکا تو مستقبل کی کیا گارنٹی ہے؟ اسی طرح کشمیری اسکے دہائیوں کے جبرو جور سے نہ دبے تو آئندہ وہ کیونکر اپنے مجرم کے آگے سرنگوں ہوجائیں؟
سچ یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کا مجرم ہی ہے۔ اسکی حیثیت صرف قابض و جابر کی ہے۔ یوں کشمیریوں کے پاس اسکے قومی دنوں کو یوم سیاہ منانے، اسکی جمہوریت اور آزادی پر ماتم کرنے اور دنیا کو یہ بتلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بھارتی تسلط کو نہیں مانتے اور اپنی حق آزادی کے لئے اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے کہ اس نے اپنے اعمال سے ان پر ثابت کررکھا ہے کہ مزاحمت کرنے اور اسکے پنجہ استبداد سے خلاصی حاصل کئے بغیر ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔







