دماغی نکسل کے الفاظ استعمال کرنے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی مودی پر تنقید

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی نے لال قلعہ سے اپنے یوم آزادی کے خطاب میں دماغی نکسلکے الفاظ استعمال کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی نے کہا تھا کہ جب مسلح نکسل ازم اپنے خاتمے کے قریب ہے، تو دماغی نکسل کے حامل لوگ تشدد اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی شناخت اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانا ضروری ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سورو داس نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو محض حکومت سے سوال کرنے پرنکسلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دماغی نکسل اب نہیں چلے گا، آپ کیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کونکسلی وغیرہ کا نام دے سکتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ وہ آپ کی حکومت سے سوال کرتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ یہ سراسر تکبرہے اور مسائل حل کرنے میں سراسران کی نااہلی ہے۔سورو داس نے یوم آزادی کے ایک علیحدہ پیغام میںکہاکہ گھنٹیاں بج رہی ہیں، بیداری آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک یوم آزادی اپنے حقیقی معنوں میں منا رہا ہے کیونکہ خوف اب ختم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جس نسل کوخاموش رہنے کے لیے کہاجارہا تھا، اس کو اس کی آواز مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدارلوگ جن زی کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوروداس نے کہاکہ بیداری کا دور شروع ہوچکا ہے، پرامن احتجاج کا دور شروع ہوچکا ہے،ملک کے ہر ضلع میں جنتر منتر جنم لے رہا ہے۔وہ تقسیم ہو جائیں گے، ہم متحد ہو جائیں گے۔ وہ خوف پھیلائیں گے، ہم حوصلے بڑھائیں گے۔ ذہنوں سے اب خوف نکل گیاہے، اور پیچھے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔






