اروندھتی رائے، امیتاو گھوش اوردیگر کا بھارتی چیف جسٹس کے نام خط
گزشتہ چھ سال سے نظربندعمر خالد اور شرجیل امام کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل

نئی دہلی 16 اگست (کے ایم ایس)مصنفین، صحافیوں، اداکاروں اور ماہرین تعلیم سمیت کنسرنڈ سٹیزنز آف انڈیا کی متعددشخصیات نے بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت کے نام ایک کھلے خط میںان لوگوں کی زندگی اور آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون سمیت خصوصی قوانین کو بلاجواز استعمال کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خط میں شرجیل امام اور عمر خالد کے کیس کو اجاگر کیاگیاہے جو 2020 میں دہلی فسادات کے بعد بغیر کسی مقدمے کے گزشتہ چھ سال سے نظربند ہیں۔ دستخط کنندگان نے اپنے خط میں ایک لیکچر کے دوران چیف جسٹس کی طرف سے اے نجیب کیس کے تذکرے کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ طویل نظربندی کے باعث ملزم کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کی صورت میں ضمانت منظورکرسکتی ہے اور کیس کو فوری سماعت کے لئے مقررکرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحالمیں یواے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت ضمانت کی سخت شرائط ختمجائیں گی۔ خط میں کہاگیا کہ چیف جسٹس سوریہ کانت ان تین ججوں میں شامل تھے جنہوں نے یہ حکم دیا تھا۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ کسی شخص کو مقدمے کے بغیر طویل مدت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ خط میں کہاگیا کہ اگرچہ کے اے نجیب کیس میں معاملہ آزادی اور قومی سلامتی کے وسیع تر سوالات کو حل کرنے کے لیے ایک بڑی بینچ کے پاس بھیجا گیا تھا لیکن شرجیل امام اورعمر خالد ابھی تک نظربند ہیں اورابھی ان کا ٹرائل شروع بھی نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی ضمانت کی درخواستیں جنوری 2026 میں سپریم کورٹ کے دو ججوںپر مشتمل بنچ سمیت مختلف عدالتوں نے بار بار مسترد کر دی ہیں۔ خط میں کہاگیا کہ استغاثہ نے دہلی فسادات سازش کیس میں تقریباً 900 گواہوں کو پیش کیا ہے، جبکہ نجیب کیس میں صرف 276 گواہ تھے۔خط میں چیف جسٹس سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ مداخلت کریں اورہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والی ناانصافی کو روکیں۔مصنفین نے لکھا کہ اس طرح کی عدالتی بے حسی منصفانہ ٹرائل کے آئینی اصولوں کے ساتھ ساتھ اس اصول کو بھی کھوکھلا کر دے گی کہ” ضمانت ہی اصول ہے اور جیل ایک استثناءہے“ جس کی سپریم کورٹ نے بار بار نشاندہی کی ہے۔خط میں کہاگیاکہ یہ اختلاف رائے ہی ہے جو جمہوریت کو جمہوریہ میں سانس دیتا ہے۔ جب تک اس طرح کے قوانین اختلاف رائے کرنے والوں کو آزادی اور انصاف سے محروم کرتے رہیں گے، ہم صرف جمہوریت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں اروندھتی رائے، امیتاو گھوش، رام چندر گوہا، پرکاش راج، رانا ایوب، منوج کمار جھا اور سوارا بھاسکر شامل ہیں۔




