بھارت

بھارت :وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی شمولیت کے خلاف منی پور میں مسلمانوں کا احتجاج

امپھال 25 اگست (کے ایم ایس) بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں مسلمانوں نے مذہبی اور خیراتی املاک کی نگرانی کرنے والے ادارے وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی شمولیت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منی پور کی پنگال مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں مظاہرین نے ضلع تھوبال میں ا±سوئی پوکپی سے لیلونگ بازار تک تقریباً چار کلومیٹر مارچ کیا اور بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تقرریوں کو واپس لے۔یہ احتجاج حکومت کی جانب سے 3 اگست کو سات رکنی وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد کیا گیا جس میں دو غیر مسلم افراد کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ریاستی بی جے پی صدر اور رکن پارلیمنٹ اے شردا دیوی بھی شامل ہیں۔بھارت میں وقف املاک میں مساجد، قبرستان، مدارس اور ایسی اراضی شامل ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدنی تعلیم، فلاح و بہبود اور مسلمانوں کے دیگر اداروں کی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کئی دہائیوں تک ریاستی وقف بورڈز کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ 1995 کے وقف ایکٹ کے تحت ریاستی بورڈز کے تمام ارکان کا مسلمان ہونا ضروری تھا۔ تاہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا حکومت نے مسلمان تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود 2025 میں پارلیمان سے ایک ترمیم منظور کروا کر اس شق میں تبدیلی کر دی۔مسلمان تنظیموں نے ان تبدیلیوں کو اپنے مذہبی معاملات میں ریاستی مداخلت قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ خیراتی مقاصد کے لیے مسلمانوں کی وقف کی گئی املاک کے انتظام میں غیر مسلموں کو کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔منی پور میں قائم مسلمان تنظیموں نے دیگر مذاہب سے متعلق اداروں کے انتظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے عموماً متعلقہ مذہبی برادری کے افراد ہی چلاتے ہیں۔مظاہرے میں شامل ایک مسلمان نے کہاکہ غیر مسلم ارکان کی شمولیت سے پنگال برادری کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تقرریوں سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور اپنے مذہبی اداروں کا انتظام خود چلانے کی روایت متاثر ہو ئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button