بھارتی عدالت نے مسلمان طالبہ کی حجاب پہننے کی درخواست مسترد کردی
نئی دہلی: بھارت میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد(نیانام پریاگ راج) کی ہائی کورٹ نے ایک مسلمان طالبہ کی درخواست خارج کر دی جس میں انہوں نے اسکول یونیفارم کے ساتھ ہیڈ اسکارف پہننے کی اجازت مانگی تھی۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق عدالت نے کہاکہ طالبہ مناسب قانونی اور مذہبی مواد پیش نہیں کر سکی جس سے یہ ثابت ہو کہ حجاب پہننا اسلام کا ایسا لازمی مذہبی عمل ہے جس کے بغیر اس کا دین متاثر ہو جائے گا۔درخواست گزار سکینہ رضوی نامی کم عمر طالبہ ہے جو الہ آباد کے ٹیگور پبلک اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد گیارہویں جماعت میں اسی اسکول میں داخلے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس کا مو¿قف تھا کہ وہ چھٹی سے دسویں جماعت تک اسکول میں حجاب پہن کر آتی رہی، لیکن اب اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے پر اعتراض کیا جارہا ہے۔اسکول کا مو¿قف تھا کہ وہ ایک نجی اسکول ہے اور تمام طلباءکے لیے ایک ہی یونیفارم مقرر ہے۔ اسکول کے مطابق کسی ایک طالب علم کو یونیفارم میں اضافی لباس کی اجازت دینے سے نظم و ضبط اور یونیفارم کی یکسانیت متاثر ہوگی۔جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا کہ اگر اسکول کا ڈریس کوڈ یکساں، غیر امتیازی اور نظم و ضبط و ادارے کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہو تو طالب علم اپنی مرضی سے اس میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔عدالت نے کہا کہ طالبہ کے ماضی میں حجاب پہننے پر اسکول کی جانب سے اعتراض نہ کیے جانے سے اسے آئندہ بھی حجاب پہننے کا مستقل قانونی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔






