کرناٹک : ہندوﺅں کا گنیش مورتی جلوس کے دوران مسجد، مدرسہ پر پتھراﺅ
مسلمانوں کا شدید احتجاج، ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
بنگلورو: ریاست کرناٹک کے ضلع اترکنڑ بھٹکل میں ہندوﺅں نے گنیش مورتی جلوس کے دوران ایک مسجد اور مدرسہ پر پتھراﺅ کیا جس سے علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ واقعہ گلمی ریلوے سٹیشن روڑپر پیش آیا جہاں تالند سے شروع ہونے والا گنیش جلوس ریلوے سٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس دوران جامع مسجد اور اسی کی نچلی منزل پر واقع مدرسے پر پتھر پھینکے گئے جس سے مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔
عبدالعلیم نامی ایک مسلم نے بھٹکل تھانے میں شکایت درج کراتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔واقعے کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی تھانے کے باہر جمع ہو گئی ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ملزموں کے خلاف کارروائی کی یقین دہائی کے بعد مظاہرین پرامن طورپر منتشر ہوئے۔
یہ تازہ واقعہ بھارت میں مساجد ، مدارس، ریارت گاہوں ، خانقاہوں کے تئیں ہندوﺅں کی نفرت و عداوت کی ایک اور مثا ل ہے۔ انتہا پسند ہندو اپنے مذہبی جلوسوں کے دوران نہ صرف قریبی مسلمان آبادیوں بلکہ مساجد، مدارس کو کھل کر نشانہ بناتے ہیں۔
ہندوں تہواروں کے دوران مسلمانوں تاجروں کو کاروبار سے روکا جاتاہے ۔انہیں ہندو توا تنظیموں کی طرف سے سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ دکانوں کے آگے اپنے نام کے سائن بورڈ آویزاں کریں تاکہ پہنچان ہو سکے کہ کاروبار کرنے والا مسلمان ہے اورکوئی ہندو یہاں سے کوئی چیز نہ خریدے ۔






