عمر عبداللہ کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکی واسرائیل حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر وادی کشمیر میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے جموں میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمدردانہ رویے اور مقدمات کاارسرنو جائزہ لینے سمیت سول سوسائٹی کے مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچا دیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بیرونی طاقتوں کو نہیں بلکہ ایران کے عوام کو اپنی حکومت کا فیصلہ خود کرنا چاہیے ۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کے لیے طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔سیاسی ماہرین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہکے بیان سے بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوتا ہے، کیونکہ موجودہ وزیر اعلیٰ مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیںجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل اختیارات بھارت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پاس ہیں جبکہ عمر عبداللہ کی حکومت محض ایک دکھاوا ہے۔





