بھارت

یوگی آدتیہ ناتھ کے مسلم مخالف متنازع بیان پر سیاسی و سماجی حلقوں کی کڑی تنقید

نئی دلی:
بھارتی ریاست اتر پردیش کے ہندوتوا وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کے مسلمان مخالف متنازع بیان پر سیاسی اور سماجی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست آسام میں ایک تقریب سے خطاب میں مسلمانوںکے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہندوتوا بھارتیہ جنتا پارٹی آسام سے مسلمانوں کو بے دخل کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ ہر مسلمان کی نشاندہی کرکے اسے ریاست سے نکالا جا سکتا ہے۔ریاست اتر پردیش میں اب کسی مسلمان کو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ عبادت گاہوں سے بلند آواز میں اذان ،عبادات یا اعلانات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان متنازعہ بیانات سے مذہبی ہم آہنگی متاثر ہونے کے علاوہ معاشرتی تقسیم مزید بڑھ سکتی ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مباحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button