بھارت کا مشن” سدرشن چکرا ” محض ایک سراب ہے جس سے پورا خطہ غیر مستحکم ہوگا
اسلام آباد: دفاعی ماہرین نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے26 اگست 2025کے بیان کوجس میں انہوں نے وزیرِاعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر میں اعلان کردہ بھارت کے آئرن ڈوم متبادل سدرشن چکرا میزائل شیلڈکوبیک وقت ڈھال اور تلوار قراردیا تھا، محض ایک فریب ناک سراب قراردیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دفاعی ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ مشن بھارت کو طاقت کے زعم میں مبتلا کر کے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالے گا۔انہوں نے کہاکہ بھارت کا مشن سدرشن چکراہندو اساطیری تصورات سے اخذ شدہ ایک غیر حقیقی خواب ہے جو اسے ڈھال اور تلوار قرار دے کرخود کو ناقابلِ شکست ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ دراصل بے وقوفوں کی جنت ہے جو جنوبی ایشیا اور عالمی امن کو عدم استحکام میں دھکیل سکتی ہے۔ کرشن کے اساطیری ہتھیار کو ماڈل بنا کر بھارت اپنی عسکری سوچ کو محض دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ اور انتقامی بنا کر پیش کرتا ہے۔ جنرل انیل چوہان جیسے فوجی سربراہان نے اس نظریے کو مزید تقویت دی ہے اور مہابھارت و گیتا کی جنگی منطق سے جنگی جنون کو جواز دینے کی کوشش کی ہے۔یہ مبالغہ آمیز وژن حقیقت میں خطرناک کمزوریوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمین، سمندر، فضا، خلا اور سائبر ڈومین میں سینسرز اور اے آئی کا انضمام کسی فول پروف دفاع کے بجائے نظام کو حملہ آوروں کے لیے نازک ہدف بنا دیتا ہے۔ ہیکنگ، ریڈار جامنگ یا جھوٹے ڈیٹا سے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو مفلوج کر دینا دشمن کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔جغرافیائی لحاظ سے بھارت دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ خطوں میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم ایک چھوٹے اور گنجان آباد علاقے کو بچاتا ہے جبکہ بھارت کی وسیع سرحدیں اور پھیلا ہوا انفراسٹرکچر کسی مکمل تحفظ کے دعوے کو محض خوش فہمی بنا دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کے محاذ پر یہ منصوبہ ابھی ابتدائی ہے اور 2035سے قبل مکمل طور پر فعال نہیں ہوگا۔ اس کا انحصار مصنوعی ذہانت، ہائپر سونک میزائل انٹرسیپشن اور ڈائریکٹ انرجی ہتھیاروں پر ہے جو ابھی محض تجربات میں ہیں۔ بھارت کا شیلڈ حقیقت میں اسٹرائیک فورس بنتا جا رہا ہے جس سے خطے میں پیشگی حملوں اور جوابی ضربوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ یہ حکمتِ عملی پورے جنوبی ایشیا کو جنگی آتش فشاں میں بدل سکتی ہے۔بحریہ، فضائیہ، سائبر اور سیٹلائٹ سسٹمز کا انضمام محض طاقت نہیں بلکہ کمزوریوں کی نئی راہیں کھولتا ہے۔ معمولی سائبر رسائی بھی پورے نظام کو بھارت کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔اسرائیل کے آئرن ڈوم سے موازنہ کرنا سراسر مبالغہ ہے۔ آئرن ڈوم مختصر فاصلے کے راکٹ روکتا ہے، جبکہ بھارت کے دعوے طویل فاصلے کے میزائلوں اور ڈرون جھنڈ کو بھی نشانہ بنانے کے ہیںجو ابھی تک کسی بھی ملک کے لیے
ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ حتی کہ روس کا S-400بھی اسی قسم کے حملوں میں ناکامی دکھا چکا ہے۔معاشی طور پر یہ منصوبہ بھارت کے لیے ایک دائمی بوجھ ہے۔ مہنگے پرزہ جات اور غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار بھارت کو کسی بھی وقت کمزور کر سکتا ہے۔ یہ اخراجات بھارت کی مجموعی سلامتی اور ترقیاتی اہداف کو کمزور بناتے ہیں۔کرشن کے چکر کی اساطیری علامت اسے ہندو آئرن ڈوم بنا رہا ہے -بھارت کا یہ خطرناک ذہنی رجحان ظاہر کرتا ہے کہ وہ طاقت کو امن پر ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ہتھیاروں کی دوڑ اور خطے میں مستقل عدم استحکام کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ مختصراً مشن سدرشن چکر بھارت کی ٹیکنالوجی اور خودمختاری کی خواہش کا اظہار ضرور ہے لیکن یہ ایک مہنگا سراب ہے۔ تکنیکی کمزوریوں، جغرافیائی حقیقتوں اور سفارتی اثرات کو نظرانداز کرنے سے یہ منصوبہ بھارت کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور اور پورے خطے کے امن کو غیر مستحکم کرے گا۔







