دہلی فسادات کیس – بھارت کی عدالتی ساکھ اور اقلیتی حقوق کا مسلسل امتحان

نئی دہلی: بھارت میں فروری 2020 میں شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران 53 افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تقریباً چھ برس بعد بھی اس کے قانونی اثرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر مخصوص افراد کے خلاف مقدمہ بازی، انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت طویل نظربندی اور اختلاف رائے کے حوالے سے ریاستی ردعمل پر سوالات برقرارہیں۔2025 کے اواخر اور 2026 کے آغاز تک مبینہ سازش کیس کے کئی مرکزی ملزمان غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت طویل عرصے سے ضمانتی کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے 22 ستمبر 2025 کو متعدد کارکنوں کی درخواستضمانت پر نوٹس جاری کیے تھے اور اکتوبر 2025 میں سماعت مقرر کی تھی۔ بعد ازاں التوا اور طریقہ کار کی تاخیر نے طویل نظربندی کے خدشات کو مزید بڑھایا۔ ناقدین کے مطابق دہلی فسادات اب امتیازی پولیسنگ کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ تشدد میں مختلف عناصر شامل تھے، مگر مرکزی سازش کیس میں تفتیش کی توجہ ہندو اکثریتی گروہ کے بجائے غیر متناسب طور پر مسلمان کارکنوں اور طلباءرہنماوں پر مرکوز رہی۔ عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میرین حیدر سمیت طلباءرہنماﺅں پر ایسے قانونی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی جو ضمانت کے امکانات کو انتہائی محدود کرتی ہیں۔ 2026 کے اوائل تک عمر خالد پانچ برس سے زائد عرصہ نظربندی میں گزار چکے ہیں جبکہ ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس نوعیت کی طویل نظربندی عملاً سزا کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
مقدمے کی سماعت سست رہی ہے۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹس، ڈیجیٹل شواہد کے دعوے اور گواہوں کے بیانات استغاثہ کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔ وکلائے دفاع نے شواہد کی فراہمی، گواہوں کی ساکھ اور احتجاجی تقاریر کو سازش کا ثبوت قرار دینے کے عمل پر بارہا اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس قانون کے تحت ضمانت سے متعلق عدالتی تشریحات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ عدالتیں اکثر ”بادی النظر میں درست“ کے معیار کو بنیاد بنا کر ضمانت مسترد کرتی رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اصول بے گناہی کے مفروضے کو کمزور کرتا ہے اور خاص طور پر سیاسی نوعیت کے مقدمات میں ریلیف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ہندو افراد کی فسادات میں شمولیت سے متعلق علیحدہ مقدمات میں مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔ کچھ مقدمات میں شواہد کی کمی پر بریت ہوئی جبکہ دیگر ابھی زیر التوا ہیں۔ سازش کیس اور دیگر مقدمات کی رفتار اور شدت میں فرق نے قانون کے غلط استعمال کے الزامات کو تقویت دی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے ان مقدمات کو بھارت میں سکڑتی ہوئی شہری آزادیوں کی علامت قرار دیا ہے۔ دہلی فسادات کا مقدمہ اب محض فوجداری قانون کا معاملہ نہیں رہا۔ اسے بھارت کی جمہوری ساکھ، عدلیہ کی آزادی اور اقلیتوں و اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ سلوک کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ احتجاجی پس منظر میں انسداد دہشت گردی قانون کے استعمال نے تناسب اور قانونی طریقہ کار پر بحث کو تیز کردیا ہے۔ بغیر کسی فیصلے کے طویل نظربندیوں نے اس دلیل کو تقویت دی ہے کہ قانونی عمل خود دباو کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ معاملہ اختلاف رائے کو سلامتی کے زاویے سے دیکھنے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جبکہ ریاست اسے منظم تشدد کے خلاف قانونی اقدام قرار دیتی ہے۔تقریباً چھ برس گزرنے کے باوجود مرکزی ملزمان کی غیر حتمی حیثیت، بار بار التوا اور سخت قانونی معیارات پر انحصار اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ دہلی فسادات کا کیس آج بھی بھارت میں عدالتی آزادی، اقلیتی تحفظ اور شہری آزادیوں کا اہم حوالہ بنا ہوا ہے۔







