زمین سے شناخت تک: کشمیریوں کا امتحان
ارشد میر
مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور دوسری طرف کشمیری قیادت اور عوام اپنی شناخت، سیاسی حق اور تاریخی مؤقف کے تحفظ کے لیے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک وسیع تر تاریخی، سماجی اور آئینی تناظر کی عکاسی کرتا ہے جس میں کشمیر کا مسئلہ اپنی اصل روح کے ساتھ آج بھی حل طلب ہے۔
حریت کانفرنس کا کہنا ہے بھارت کی موجودہ حکومت، جس کی قیادت ہندو فسطائی نریندر مودی کر رہے ہیں، ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کشمیریوں کی انفرادی اور اجتماعی شناخت کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں، جن میں زمینوں کے قوانین میں تبدیلی، ڈومیسائل پالیسیوں میں رد و بدل، غیر مقامی افراد کو آبادکاری کے مواقع فراہم کرنا اور مقامی وسائل پر کنٹرول کو تبدیل کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کو ایک مربوط منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد آبادیاتی توازن کو متاثر کرنا اور خطے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ خدشہ نیا نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے کیے گئے آئینی اور انتظامی اقدامات، خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد، اس بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ خطے میں ایک نئی پالیسی اپنائی گئی ہے جس کا مقصد نہ صرف سیاسی کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے بلکہ سماجی و ثقافتی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنا ہے۔ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیوں کے بعد غیر مقامی افراد کو رہائش اور روزگار کے مواقع ملنے سے مقامی آبادی میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کی زمین، وسائل اور شناخت خطرے میں ہے۔
حریت ترجمان نے جن “ہندوتوا” پالیسیوں کا ذکر کیا ہے ان کے تناظر میں بی جے پی اور آر ایس ایس کانظریاتی پس منظر بھی اہم ہے۔ ان تنظیموں کے نظریات کے مطابق بھارت کو ایک مخصوص تہذیبی اور مذہبی شناخت کے تحت تشکیل دیا جانا چاہیے، جس کے اثرات کشمیر جیسے مسلم اکثریتی خطے میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ کشمیر میں کی جانے والی پالیسیوں کو محض انتظامی اصلاحات کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع نظریاتی منصوبے کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
گذشتہ روز ہی جموں و کشمیر پر مسلط کردہ نام نہاد لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیریوں کی عددی، معاشی، سیاسی اور سماجی کے ساتھ ساتھ تہذیبی تطہیر کے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”وندے ماترم” تہذیبی نظریہ ہے، کشمیری اسکی حب الوطنی اور قومی اتحاد کی علامت کے بطور پابندی کریں۔
سنہانے یہ بات ابھینو تھیٹر، جموں میں وندے ماترم کے 150سال کی یاد میں منعقدہ سات روزہ خصوصی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے وندے ماترم کو "ہماری شناخت، طاقت اور عہد” قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ تہذیبی اقدام پر مبنی ایک نظریہ ہے ۔مقبوضہ سرزمین پر اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ہی ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو مسلط کرنے کے غلیظ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ کشمیریوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ وفاداری کااس طرح اظہار کریں جو مقامی ثقافت اور مذہبی شناخت سے متصادم ہو اور سیاسی و شہری شرکت کو صرف ہندوتوا کے نظریہ کے مطابق محدود کیا جا رہا ہے۔
کشمیر کی شناخت کا مسئلہ صرف زمین یا جغرافیہ تک محدود نہیں بلکہ یہ زبان، ثقافت، مذہب اور تاریخی شعور سے جڑا ہوا ہے۔ کشمیری عوام صدیوں سے ایک مخصوص تہذیبی شناخت کے حامل رہے ہیں جس میں مذہبی رواداری اور مقامی اقدار کا امتزاج شامل ہے۔ اس شناخت کو کسی بھی بیرونی دباؤ یا پالیسی کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش نہ صرف مقامی سطح پر مزاحمت کو جواز فراہم کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی رو سے کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے تاریخی طور پر اس مسئلے کو ایک تنازعہ تسلیم کیا ہے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی بات کی ہے۔ تاہم زمینی حقائق میں اس مؤقف پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔
آبادیاتی تبدیلی کے خدشات کو محض سیاسی پروپیگنڈا کہہ کر رد کرنا بھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگاکیونکہ کسی بھی خطے میں آبادی کا توازن اس کی سیاسی تقدیر پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں مقامی آبادی کو کمزور کیا جائے یا اس کی نمائندگی کو محدود کیا جائے تو اس کے نتائج طویل المدت سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری ان پالیسیوں کو انتہائی سنجیدگی اور خدشات سے دیکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف بھارت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کے اقدامات انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد خطے کو دیگر بھارتی ریاستوں کے برابر لانا ہے۔ بھارت یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ ڈومیسائل قوانین اور سرمایہ کاری کے مواقع سے خطے میں اقتصادی ترقی آئے گی اور روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔ تاہم کشمیری عوام اور کئی بین الاقوامی مبصرین اس نقطہ نظر سے بالکل اتفاق نہیں کرتے اور اسے ایک یکطرفہ فسطائی پالیسی کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں مقامی آبادی کے خدشات کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی آوازوں کو دبانے، میڈیا پر پابندیوں اور اختلافِ رائے کو محدود کرنے کےپوری ڈھٹائی اور سینہ زوری کے ساتھ اقدامات کئے جارہےہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی پالیسی پر کھل کر بحث اور مکالمہ مزید مشکل ہو جاتا ہے جس سے اعتماد کا فقدان بڑھتا ہے، حد یہ کہ بھارتی خیمہ سے وابستہ لوگ بھی کھل کر بات کرنے کی تاب نہیں لاتے، وزیر اعلیٰ دہائیاں دیتے پھرتے ہیں کہ جابرانہ اقدامات کے احکامات کون دیتا ہے؟ بھارت اور ان کے درمیان بد اعتمادی کی خلیج بھی بڑھ چکی ہے۔ جب مقامی آبادی کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی نہیں جا رہی، تو بے چینی اور عدم تحفظ میں اضافہ ہونا ایک فطری ردعمل ہے۔
حریت کانفرنس کی اپیل کہ کشمیری عوام متحد اور ہوشیار رہیں، اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی تحریک یا جدوجہد میں اتحاد بنیادی عنصر ہوتا ہےاور جب شناخت کا سوال سامنے ہو تو یہ اتحاد مزید اہم ہو جاتا ہے۔ کشمیری قیادت کے نزدیک یہ وقت محض سیاسی اختلافات کا نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے یکجہتی کا ہے۔
عالمی برادری کا کردار بھی اس صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ مختلف عالمی ادارے اور ممالک کشمیر کے مسئلے پر وقتاً فوقتاً بیانات دیتے رہے ہیں لیکن عملی اقدامات کی کمی بھارت کا اعتماد بڑھا رہی ہے۔ حریت ترجمان کا یہ مطالبہ کہ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ اس صورتحال کا نوٹس لے، دراصل اسی عالمی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس کا ذکر کشمیری حلقے دہائیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی تنازعے کو طاقت کے ذریعے مکمل طور پر حل کرنا تاریخ میں ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ پائیدار حل وہی ہوتا ہے جو تمام فریقین کی شمولیت، اعتماد سازی اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان اعتماد بحال نہ ہوا تو کسی بھی یکطرفہ اقدام کے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
موجودہ حالات میں کشمیری عوام ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں جہاں ان کے سامنے اپنی شناخت کے تحفظ، اپنے سیاسی مستقبل اور اپنے معاشی حقوق کے حوالے سے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ خطے میں موجود تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔
کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل انصاف، مکالمے اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری اور بطور خاص اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دوں میں مضمر ہے جو اس مسلہ کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی حل کے ایک متفقہ کلیہ کے طور پر منطور ہوچکی ہیں اور جن پر عمل درآمد کے بھارت سمیت تمام فریقین وعدہ بند ہیں۔ جب تک ان بنیادی اصولوں کو تسلیم نہیں کیا جاتااس وقت تک نہ تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔ کشمیری عوام کی خواہشات، ان کی شناخت اور ان کے حقِ خودارادیت کو نظرانداز کر کے کسی بھی پالیسی کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔







