آج کا دن یعنی 6 دسمبر ہمیں بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی درندگی اور دہشتگردی کی اس سیاہ کارروائی کی یاد دلاتا ہے جب بھارتیہ جنتاپارٹی کے غنڈوں نے 1992 میں مسلمانوں کی 500 سالہ پرانی بابری مسجد کو شہید کردیا اور اس شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے 2000 سے زائد مسلمانوں کو بھی تہہ تیغ کیا گیا۔ یہ مسجد بھارت کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے نام سے مشہور تھی۔اس حوالے سے ہم چند تاریخی حقائق بیان کررہے ہیں کہ کس طرح ہندو دہشت گردوں نے سازش اور مکاری کے ذریعے بالآخر اس مسجد کو آج کے دن شہید کر دیا۔
بابری مسجد کا تنازعہ سب سے پہلے اس وقت سامنے آیا جب 1853 میں ایک ہندو انتہا پسند گروپ نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا اعلان کیا ۔تاہم اس وقت یہ ایک عمومی تنازعہ خیال کیا گیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی گئی ایک طرف ہندو تھے جو مسجد کو گرا کر وہاں مندر کی تعمیر پر بضد تھے جبکہ دوسری طرف مسلمان جو کسی صورت مسجد کا انہدام نہیں چاہتے تھے۔ایک مشہور صحافی مزاری اس واقعے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نرموہی گروپ کے اعلان کے دوسال بعد ایودھیا کی مقامی انتظامیہ نے نرموہیوں کو مندر کی تعمیر سے روک دیا اور کہا ”گو کہ بابری مسجد کو مندر کی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہے لیکن اس کی تاریخی اہمیت اور طرز تعمیر پیش نظر مسجد کو گرا کر مندر کے تعمیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی“۔
1853 ءکے تنازعے سے قبل بابری مسجد ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے انتہائی قابل احترام جگہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ بابری مسجد جو سات ایکڑ سے بھی زائد رقبے پر محیط ہے اپنے طرز تعمیر کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا تھا سنگ مرمر اور قیمتی سفید پتھروں سے تعمیر اس کی دیواریں اور گنبد و مینار اپنی مثال آپ ہیں ، ایک عرصہ تک مسلمان اور ہندو بابری مسجد کو مشترکہ طور پر ایک غیر متنازعہ مذہبی اور عقیدت کی جگہ تصور کرتے تھے تاہم دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں باہم رضامندی سے کچھ ممنوعات تھی جن کا دونوں فریق خیال رکھتے تھے۔مثال کے طور پر مسلمان ہندوو¿ں کے لئے مخصوص جگہ پر کبھی جاکر عبادت نہیں کرتے اور اس طرح ہندوو¿ں کو بھی مسجد کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن 1857 ءکے واقعات کے بعد ہندوو¿ں بابری مسجد کے ایک بیرونی حصے کو گرا کر ممنوعہ حصے میں داخل ہوگئے۔
مقامی انتظامیہ نے کئی بار مندر کی تعمیر رکوائی لیکن ہندوو¿ں باز نہ آئے۔ اسی سال ایک ہندو انتہا پسند راہنما رگھبیر داس نے فیض آباد کے جج کے پاس درخواست جمع کروادی لیکن عدالت نے اس کی درخواست رد کر دی پھر اس نے 17 مارچ 1886 کو ڈسٹرکٹ جج فیض آباد کی عدالت میں اپیل دائر کردی۔عدالت نے اسے بھی رد کردیا اس نے ایک اور اپیل 25 مئی جوڈیشل کمشنر اودھ کی عدالت میں جمع کروائی رگھبیر کو یہاں بھی مایوسی ہوئی اور اس طرح ہندوو¿ں کو بابری مسجد کے خلاف پہلی قانونی جنگ ہارنا پڑی۔ اس پر ہندو آپے سے باہر ہوگئے۔
انتہا پسند ہندوو¿ں نے 1934 ءمیں مسجد کی دیوار اور ایک گنبد کو توڑ دیا لیکن اس وقت کی برطانوی حکومت نے ہی دوبارہ تعمیر کروادیا ، بابری مسجد اور اس سے ملحقہ گنج شہیداں قبرستان کا رقبہ اتر پردیش سنی مرکزی بورڈ برائے وقف اسلامی املاک جسے عرف عام میں سنی وقف بورڈ کہا جاتا ہے اس کے نام 1936 ء کے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔
قارئین کرام! برطانوی عہد کے بعد جب برصغیر تقسیم ہوا تو بھارت میں ہندوو¿ں کو اقلیتوں کے خلاف کھلی اجارہ داری مل گئی اور وہ اپنے سیاہ کارناموں میں مصروف ہونے لگے۔اقلییتیں اور ان کی عبادت گاہیں اب ان کے نشانہ پر تھیں۔ 1949 میں سنی وقف بورڈ کے انسپکٹر محمد ابرہیم اور بعد ازاں سیکریٹری وقف بورڈ کوءحراساں کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا مقدمے میں ان کا موقف تھا کہ بابری مسجد کو ہندوو¿ں سے خطرہ ہے جبکہ ہندو مسلمانوں کو مسجد کی طرف جانے سے بھی روکتے ہیں۔
محمد ابرہیم نے بتایا کہ جب وہ اور دیگر لوگ نماز پڑھنے میں مصروف تھے تو اس وقت کچھ لوگوں کے جوتوں کی آواز انہیں سنائی دی اور مسلمانوں کی طرف کچھ پتھر بھی پھینکے گئے جس کی وجہ سے نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہیں ساری رات مسجد میں گزارنی پڑی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً آدھی رات کو جب پولیس گارڈ سو رہے تھے تو ” ہندو راما“ کے کچھ پیرو کار جو لگ بھگ پچاس یا ساٹھ کی تعداد میں تھے مسجد کی صحن کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے جہاں انہوں نے اپنے دیوتا ” سیتا رام“کا بت نصب کیا اس اثناء میں پانچ سے چھ ہزار لوگ مزید اکٹھے ہو گئے جنہوں نے بھجن گانا شروع کر دیا اور مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اگلی صبح ہندوو¿ں کا بہت بڑا ہجوم مسجد کے اطراف جمع ہوگیا اور اپنی پوجاپاٹ شروع کر دیا۔ ضلعی مجسٹریٹ کے مطابق ایک بہت بڑا ہجوم مسجد میں زبردستی داخل ہونا چاہتا تھا حالات اس قدر بے قابو ہو گئے کہ اس وقت وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو مطلع کرنا پڑا اس نے مشتعل لوگوں کو زبردستی وہاں سے نکالنے کا حکم دیا اور مسجد کو تالا لگا دیا گیا۔
قارئین کرام یہ تھی بابری مسجد کے خلاف پہلی باقاعدہ اور منظم ہندو تخریب کاری پھر کچھ عرصہ خاموشی رہی لیکن 1984 ءمیں ایک بار پھر وشوا ہندو پریشد نامی انتہا پسند ہندو تنظیم نے بابری مسجد کا تالا کھلوانے کے لیے ایک بہت بڑی تحریک کا اعلان کیا ۔اگلے سال 1985 ءمیں راجیو گاندھی کی حکومت نے بابری مسجد کے تالے کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس وقت ہندوو¿ں کو صرف سالانہ پوجا پاٹ کی اجازت دی گئی جو ایک مخصوص جگہ جہاں ان کا خیال تھا کہ ” راما“ یہاں پیدا ہوا ہے کے لئے مخصوص تھی اس طرح بابری مسجد کو ہندوو¿ں کا مندر بنانے کی طرف پہلی سیڑھی عبور کر لی گئی۔
1989 کے بھارت کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما ایل کے ایڈوانی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے رتھ یاترا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے ایل کے ایڈوانی کی اس رتھ یاترا تحریک پر شدید تحفظات اور اپنے غصے کا اظہار کیا کیونکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ہندو کئی صدیوں سے جس مندر کا دعویٰ کررہے ہیں کہ اس کے اوپر بابری مسجد تعمیر ہوئی ہے۔اس آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔مسلمانوں کا موقف ہے کہ ہندوو¿ں کا دعویٰ بغیر کسی ثبوت اور دلیل ہے اور اس کا انحصار صرف پرانے قصے کہانیوں پر ہے اور حقیقت میں بابری مسجد کی جگہ پر کوئی مندر وغیرہ سرے سے موجود نہیں تھا بابری مسجد سے متعلق بھارتی ہندو مسلم جنگ چلتی رہی لیکن اس جنگ نے اس وقت خوفناک صورت اختیار کر لی جب 1992 میں۔
آج ہی کے دن 6 دسمبر علی الصبح انتہا پسند ہندوو¿ں نے مسجد پر زبردستی قبضہ کر کے اسے شہید کردیا۔بابری مسجد کی اس بہیمانہ شہادت کے خلاف پورے ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے جس کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔ مسجد کی شہادت یقینی طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اشتعال انگیز اقدام تھا۔ اس لئے پوری دنیا میں مسلمان ہندوو¿ں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ المیہ تو یہ حکومت وقت جس نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اور پولیس کو مشتعل ہندوو¿ں کے خلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتی رہی اور اندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔








