بھارت کی پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوئی بھی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی، بلاول بھٹو زرداری
لندن:
پاکستان کے پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوئی بھی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے لیکن بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے۔ پانی بند کیا تو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ خطے میں استحکام کا راستہ صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے نکلتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے انہیں ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ دنیا میں پاکستان کا امن کا بیانیہ موثر انداز میں پیش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کے دوران دنیا کو واضح کیا گیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور بھارت کی الزام تراشیوں کا اصل مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر موقع پر بھرپور دفاع کرتے ہوئے دشمن کو شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے، اور سکھ رہنمائوں کے قتل میں بھی بھارت ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا جھوٹا بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے، اور مختلف ممالک میں بھارت کی دہشتگرد سرگرمیوں کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوئی بھی کوشش اعلانِ جنگ تصور کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے بھارت یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا۔ پانی بند کرنے کی دھمکی نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک جنگ جیتی ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل کے عہدے پر موجود رہنما کر رہے تھے، اور یہ اعزاز ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا نے جنگ کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جبکہ بھارتی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی۔بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سفارتکار کم اور جنگی جنونی زیادہ لگتے ہیں، اور انہیں ابھی نندن کی تصاویر گوگل کر کے یاد رکھنی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور، اور یہ دہرا معیار عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بارہا کہا ہے کہ خطے میں امن قائم ہونا چاہیے، اور پاکستان اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں امن کا پیغام لے کر نکلا ہے۔





