اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازعات کے پرامن حل سے متعلق پاکستان کی قرارداد منظور کر لی
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے”تنازعات کے پرامن حل کے لیے میکانزم کو مضبوط بنانے”سے متعلق پاکستان کی طرف سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت سلامتی کونسل کے اجلاس میں قرارداد کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ قرار داد سفارت کاری، تنازعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اور پرامن طریقوں سے تنازعات کے حل کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لئے ایک اہم قدم ہے۔سلامتی کونسل کی قرارداد 2788(2005) میںتنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر زوردیاگیا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب چھ میں بیان کیا گیا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع استعمال کریں۔ قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر موثر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کریں۔رکن ممالک اور اقوام متحدہ کو تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے طریقے اور ذرائع تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس میں بروقت سفارتی کوششیں، ثالثی، اعتماد سازی اور بین الاقوامی، علاقائی او ذیلی سطحوں پر بات چیت کی سہولت شامل ہے۔ قرارداد میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کی کوششوں کو بڑھانے اور ان تنظیموں اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستان سلامتی کونسل کے ایک متحرک رکن کے طور پر تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ اور بحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کررہاہے۔ پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کی منظوری علاقائی اور عالمی سطح پر امن و سلامتی کے اہداف کے حصول میں ایک اہم کردارادا کرے گی۔






