ریزرویشن، تعلیم اور روزگار، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے معاشی و آبادیاتی اثرات
تحریر: ارشد میر
مقبوضہ جموں و کشمیر کی نام نہاد قانون ساز اسمبلی میں حالیہ دنوں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار نے بیک وقت تین ایسے پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے جو بظاہر الگ الگ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت نوجوانوں کے لیے دستیاب مواقع اور ان تک رسائی کی شکل میں بھارت کے کشمیریوں کی سیاسی، فکری، معاشی، عددی اور تہذیبی تطہیر کے گھناؤنے منصوبے ظاہر کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجراء میں جموں اور کشمیر کے درمیان غیر معمولی فرق کو ظاہر کرتی ہے، دوسری اسی ریزرویشن پالیسی کو کشمیری نوجوانوں کے لیے مواقع اور میرٹ کے سوال سے جوڑتی ہے اور تیسری رپورٹ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ہر سال ہزاروں نوجوان سرکاری کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود حکومت کے پاس ان کے روزگار اور معاشی مستقبل کا کوئی جامع ریکارڈ موجود نہیں۔
محکمہ ریونیو کے اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018ء سے اب تک جموں ڈویژن میں 14 لاکھ 17 ہزار 28 ریزرویشن سرٹیفکیٹ جاری ہوئے جو مجموعی تعداد کا 80.4 فیصد ہیں جبکہ وادی کشمیر میں یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ 46 ہزار رہی۔ یعنی کل سرٹیفکیٹس میں وادی کا حصہ صرف 19.6 فیصد بنتا ہے۔ ضلع وار اعداد و شمار اس فرق کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ جموں ضلع میں 198,910 سرٹیفکیٹس کے مقابلے میں سرینگر میں صرف 4,466 سرٹیفکیٹس جاری ہوئے۔ راجوری میں یہ تعداد 437,479 اور پونچھ میں 324,753 تک پہنچ گئی۔
سوال صرف یہ نہیں بنتاکہ مختلف علاقوں میں کتنے سرٹیفکیٹ جاری ہوئے بلکہ یہ ہے کہ یہ سرٹیفکیٹس کن زمروں کے لیے، کس معیار کے تحت اور کس آبادیاتی تناسب کے مطابق جاری کیے گئے اور پھر ان کا اثر ملازمتوں، تعلیمی داخلوں اور سرکاری مواقع کی تقسیم پر کیا پڑا؟ اگر حکومت خود یہ اعداد و شمار اسمبلی میں پیش کرتی ہے تو ان کے بارے میں شفاف وضاحت بھی اسی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے اسی لیے اس تفاوت کو محض ایک عددی فرق کے طور پر قبول کرنے کے بجائے ریزرویشن نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام کشمیری نوجوانوں کے لیے ناانصافی کا باعث بن رہا ہے اور میرٹ کے اصول کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ سوال بھارتی سیاسی خیمہ سے وابستہ اُس اسمبلی کے رکن کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں جس کے لئے اراکین کے انتخاب کو ہمیشہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نعم البدل کے طور پر پیش کیا۔
موجودہ تنازع کی جڑ 2024ء میں ریزرویشن نظام میں کی گئی بڑی تبدیلیوں تک جاتی ہے جن کے تحت منصوبہ بند انداز میں صرف 33 فیصد ریزرویشن اوپن میرٹ کے لئے رکھی گئی اور باقی 67 فیصدمخصوص زمروں کے لئے مختص کی گئی تاکہ جموں اور بھارت کے ہندؤں کو نوازا جائے۔اس امتیازی پالیسی پر سیاسی جماعتوں اور جنرل کیٹیگری کے طلبہ کی جانب سے اعتراضات سامنے آئےجس کے بعد نومبر 2024ء میں عمر عبداللہ کی کٹھ پتلی حکومت نے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی قائم کی۔ بعد ازاں مذکورہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کی مگر اس کی پیش رفت اور اس کے مندرجات کی عوامی سطح پر دستیابی خود ایک تنازع بن گئی۔ مارچ 2025ء میں عمر عبداللہ نے کمیٹی کو چھ ماہ میں رپورٹ مکمل کرنے کی مہلت دی۔ جون 2025ء میں رپورٹ کابینہ تک پہنچی جبکہ اس کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر سوالات اٹھنے پر مزید غور کے نام پر یہ گول ہی کی گئی۔ یوں ایک ایسے نظام پر خود نام نہاد منتخب حکومت کے اندر بھی بحث شروع ہوئی جسے بنیادی طور پر نام نہاد لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی شکل میں متوازی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔
یہاں 2019ء کا پس منظر فیصلہ کن اہمیت اختیار کرتا ہے۔ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے آئینی جارحیت کرتے ہوئے مقبوضہ علاقہ کی آئینی خودمختاری ختم کی اور اسے وفاق کے زیر انتظام دوعلاقوں میں تقسیم کر دیا۔ اس اقدام کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، مواصلاتی بندش اور نقل و حرکت و اجتماع پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 2018ء اور 2019ء کی اپنی رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، طاقت کے وحشیانہ استعمال، من مانی حراست، استثنیٰ اور جواب دہی کے فقدان کے بارے میں تشویش ظاہر کی اور جامع آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
5 اگست 2019ء کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے تحت بھی بھارت کو مقبوضہ علاقہ میں من مانی گرفتاریوں، اظہار رائے اور پرامن اجتماع پر پابندیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں و سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں اور حقِ زندگی کی خلاف ورزیوں پرتشویش سے آگاہ کیا گیا۔ اگست 2019ء کی ایک باضابطہ مواصلاتی کارروائی میں ان معاملات کو واضح طور پر درج کیا گیا تھا۔
یہی وہ وسیع پس منظر ہے جس میں آج کے ریزرویشن اعداد و شمار کو دیکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی متنازع اور مقبوضہ خطے میں جب سیاسی اختیار کا ڈھانچہ تبدیل کیا جائے، آئینی حیثیت تبدیل ہو، انتظامی اختیار زیادہ مرکزی ہو جائے اور اس کے ساتھ روزگار، زمین، ڈومیسائل اور نمائندگی سے متعلق قوانین میں جبری تبدیلیاں رونما ہوں تو مواقع کی تقسیم محض انتظامی مسئلہ نہیں رہتی۔ وہ قبضے اور جبر کے استعماری ڈھانچے کا حصہ بن جاتی ہے۔
اس تناظر میں دوسری خبر پہلی خبر کی تشریح کرتی ہے۔ اگر 80 فیصد سے زیادہ ریزرویشن سرٹیفکیٹس جموں ڈویژن میں جاری ہوئے ہیں اور موجودہ ریزرویشن نظام میں اوپن میرٹ کے لیے صرف تقریباً ایک تہائی مواقع باقی رہ گئے ہیں تو کشمیری نوجوانوں کا یہ سوال قابل فہم ہے کہ ان کے لیے مسابقتی میدان کس طرح تشکیل پا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف یہ کہہ دینے سے نہیں دیا جا سکتا کہ ریزرویشن کا مقصد محروم طبقات کو مواقع فراہم کرنا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ محرومی کی تعریف کیسے کی گئی، اس کی پیمائش کیسے ہوئی، مختلف علاقوں کی آبادی اور سماجی ساخت کو کس طرح ملحوظ رکھا گیا اور پالیسی کے نتائج کیا نکلے؟
تیسری خبر اس بحث کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے 145 سرکاری ڈگری کالجوں سے ہر سال 25 سے 30 ہزار نوجوان گریجویٹ بن کر نکلتے ہیں لیکن حکومت کے پاس یہ بتانے کے لیے جامع اعداد و شمار نہیں کہ ان میں سے کتنے روزگار حاصل کرتے ہیں، کتنے بے روزگار رہتے ہیں، کتنے مزید تعلیم حاصل کرتے ہیں اور کتنے مختلف معاشی شعبوں میں جذب ہوتے ہیں؟ اس صورت حال میں نوجوانوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے کی جا سکتی ہے؟ اگر ریاست کے پاس اپنے گریجویٹس کے معاشی انجام کا بنیادی ڈیٹا ہی موجود نہ ہو تو روزگار، نصاب، ہنرمندی اور بھرتی کی پالیسی کس بنیاد پر بنائی جا رہی ہے؟
یہ خلا محض انتظامی غفلت کا معاملہ نہیں۔ یہ اُس بڑے مسئلے کی علامت ہے جس میں نوجوان پہلے ایک محدود اور متنازع تعلیمی و معاشی ڈھانچے سے گزرتے ہیں، پھر ملازمت کے انتہائی مسابقتی میدان میں داخل ہوتے ہیں اور آخر میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مواقع کی مجموعی تقسیم کس اصول پر ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریزرویشن، میرٹ اور بے روزگاری کی بحث کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میں معاشی زندگی پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور طویل پابندیوں سے متاثر ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2019ء کے بعد کے حالات کے بارے میں لکھا کہ مواصلاتی پابندیوں نے کشمیر کی معیشت، خصوصاً سیاحت پر انحصار کرنے والی وادی کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ اس تنظیم کے مطابق 2019ء کے ابتدائی لاک ڈاؤن کے صرف پہلے تین ماہ کے معاشی نقصان کا اندازہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے 2.4 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا تھا۔
اسی طرح 2019ء کے بعد صحافت، سیاسی سرگرمی اور سول سوسائٹی پر پابندیوں نے معاشرے کے اندر آزادانہ بحث اور اجتماعی سیاسی اظہار کی گنجائش بھی محدود کی۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگست 2019ء کے بعد کم از کم 35 کشمیری صحافی پولیس پوچھ گچھ، چھاپوں، دھمکیوں، جسمانی حملوں، نقل و حرکت کی پابندیوں یا فوجداری مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2024ء تک بھی اس ادارے نے کشمیر میں آزادی اظہار اور اجتماع پر پابندیوں، من مانی حراستوں اور دیگر سنگین انسانی حقوق کے مسائل کے برقرار رہنے کی نشاندہی کی۔
اس پس منظر میں کشمیر کے موجودہ معاشی اور انتظامی ڈھانچے کو محض ایک معمول کے حکومتی نظام کے طور پر دیکھنا اس وسیع تاریخی اور سیاسی تناظر کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا جس میں یہ نظام وجود میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ریکارڈ میں جموں و کشمیر کا معاملہ باقاعدہ ایک تنازعہ کے طور پر درج ہے اور 1948ء کی قرارداد 47 سمیت متعدد قراردادیں اس تنازع کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
اسی لیے کشمیری سیاسی حلقوں کے نزدیک مسئلے کا بنیادی سوال محض یہ نہیں کہ موجودہ انتظامیہ ریزرویشن کو کچھ فیصد کم یا زیادہ کرے، روزگار کے اعداد و شمار بہتر بنائے یا کالجوں میں مزید Placement Drives شروع کرے۔ ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ اس سیاسی حیثیت کا ہے جس کے تحت یہ پورا انتظامی ڈھانچہ چل رہا ہے۔ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا مطالبہ اسی تاریخی تنازع کے تناظر میں سامنے آتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ اسی بحث کا بنیادی حصہ ہے۔
یہاں بھارتی تسلط کی 80 سالہ تاریخ خود بہت سے سوالات کے جوابات فراہم کرتی ہے۔ اگر ایک سیاسی تنازع کو صرف انتظامی اصلاحات، نئی ملازمتوں، ریزرویشن کے فارمولوں یا ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا تو کشمیر کا مسئلہ دہائیوں پہلے ختم ہو چکا ہوتا۔ مگر آج بھی نام نہاد اسمبلی کے اندر ریزرویشن، نمائندگی اور روزگار کے سوالات زیر بحث ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ریکارڈ میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق سنگین خدشات مسلسل موجود رہے ہیں۔
اس لیے متذکرہ تین خبریں ایک گہری تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایک طرف لاکھوں ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجرا میں علاقائی تفاوت ۔ دوسری طرف نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ تعلیم میں مواقع کی تقسیم میں خطرناک امتیاز اور تیسری طرف ہر سال ہزاروں گریجویٹس پیدا ہونے کے باوجود حکومت ان کے روزگار کے انجام سے متعلق بنیادی اعداد و شمار فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب کشمیر پہلے ہی ایک دیرینہ اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث سیاسی تنازع کا مرکز ہے۔
چنانچہ ان خبروں کو محض محکمہ ریونیو، محکمہ اعلیٰ تعلیم یا ریزرویشن پالیسی کی الگ الگ فائلوں میں بند کرنا ان کے حقیقی سیاسی مفہوم کو محدود کر دے گا۔ ان اعداد و شمار سے کم از کم یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مواقع کی تشکیل کون کر رہا ہے، ان مواقع کی تقسیم کا معیار کیا ہے اور اس پورے عمل میں کشمیری عوام کی سیاسی مرضی اور نمائندگی کی حیثیت کیا ہے؟
کشمیریوں کے سیاسی بیانیے میں اسی مقام پر آزادی اور حق خود ارادیت کا سوال دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ اس بیانیے کے مطابق مسئلہ کسی انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کا نہیں بلکہ اُس جبری اور غیر قانونی اور بیرونی سیاسی اختیار کا ہے جس کے تحت وہ نظام قائم ہے۔ چنانچہ ریزرویشن، تعلیم اور روزگار کے حالیہ تنازعات کو اس وسیع تر تناظر سے الگ کر کے دیکھنے سے کشمیر کے موجودہ بحران کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے خطے کے نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کس سیاسی اختیار کے تحت ہو رہا ہے جس کی متنازع حیثیت کا ذکر اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں آج بھی موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج موبوضہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا تنازع محض چند فیصد نشستوں کا تنازع نہیں، گریجویٹس کی بے روزگاری محض روزگار کے اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں اور علاقائی تفاوت محض سرکاری فائلوں کا معاملہ نہیں۔ یہ سب اس بڑے سوال سے جڑتے ہیں کہ کشمیر میں طاقت، مواقع، نمائندگی اور مستقبل کی سمت کا تعین کس کے ہاتھ میں ہے اور خود کشمیری عوام اس فیصلے میں کہاں کھڑے ہیں؟ یہ تمام معاملات کشمیریوں کے بیانیہ کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ ناجائز تسلط کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور اس تسلط کا خاتمہ ہی تمام مسائل و مصائب کا حل ہے۔







