مضامین

ہندو فسطائیت بے مُہار، چار روز میں نصف درجن مسلم کش حملے، نفرت و تعصب کی آگ نیپال تک پہنچ گئی

ارشد میر


بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے خلاف ہندو انتہاپسندانہ تشدد اب کسی وقتی ردِعمل یا انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم اور ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والا مستقل رجحان بن چکا ہے۔ اگر ان واقعات کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ تشدد نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی محض سماجی سطح پر پھیلی نفرت کا شاخسانہ بلکہ اس کے پیچھے ایک مخصوص نظریہ، سیاسی سرپرستی، انتظامی خاموشی اور عدالتی کمزوری کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرم اکثر بے خوف ہو کر وارداتیں کرتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور کھلے عام قانون کو چیلنج کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یا تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی ہی نہیں یا اگر ہوئی بھی تو محض نمائشی اور نرم دفعات کے تحت۔
حالیہ دنوں میں صرف چار دن، یعنی 3 سے 7 جنوری کے دوران، اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور حتیٰ کہ دارالحکومت دہلی میں پیش آنے والے نصف درجن سے زائد واقعات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ بھارت میں اقلیت کش تشدد کس خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ بہار میں ایک مسلمان مزدور کو زبردستی ہندوتوا نعرے لگانے پر مجبور کرنا، راجستھان میں ایک عمر رسیدہ مسلمان کو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں سڑک پر گھسیٹ کر مارنا، دہلی میں مسجد اور قبرستان سے متصل تعمیرات کی انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج پر آنسو گیس اور طاقت کا استعمال اور اتر پردیش میں مسلسل مسجدوں اور مدرسوں پر بلڈوزر چلانا، یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ ان میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ہر جگہ نشانہ مسلمان ہیں، ہر جگہ الزام یا جواز مذہبی یا قومیتی ہے اور ہر جگہ ریاست یا تو براہِ راست شریک ہے یا خاموش تماشائی۔
راجستھان کے قصبے اکلیرا میں عمر رسیدہ شخص پر ہونے والا وحشیانہ تشدد اس سماجی زوال کی بدترین مثال ہے جہاں ایک انسان کو جانور سے بھی بدتر سمجھا گیا۔ ویڈیو میں نظر آنے والی اس کی بے بسی، التجائیں اور لاٹھیوں و لاتوں کی اس پر ہورہی بارش دراصل مودی کے بھارت میں “نیو نارمل” بن چکی ہے۔ یہ تشدد کسی لمحاتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ گائے، قومیت اور مذہب جیسے نعروں کی آڑ میں پھیلائی گئی اس نفرت کا مظہر ہے جسے ریاستی سطح پر ہوا دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد چند رسمی بیانات اور محدود گرفتاریوں کے سوا کچھ نہیں ہوتااور پھر کچھ دن بعد ایک نیا واقعہ سامنے آجاتا ہے۔
اتر پردیش میں مسجدوں، مدرسوں اور قبرستانوں کی مسلسل مسماری اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بلڈوزر اب محض تجاوزات کے خلاف کارروائی کا آلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ بابری مسجد کے فیصلے کے بعد جس تیزی سے “مسجد کے نیچے مندر” کا بیانیہ پھیلایا گیا، اس نے ملک بھر میں مذہبی مقامات کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے حوالے سے زیرِ التوا مقدمے کے باوجود اردگرد دکانوں، مکانات اور اب قبرستانوں کو نشانہ بنانا عدالتی عمل کی صریح توہین ہے مگر انتظامیہ کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ مستقبل میں مزید کارروائیوں کی فہرستیں تیار کر رہی ہے۔
دہلی جیسے شہر میں، جہاں آئین، عدالتیں اور مرکزی حکومت موجود ہے، مسجد اور قبرستان کے اطراف رات کی تاریکی میں پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ انہدامی کارروائیاں انجام دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب کچھ خوف پھیلانے، اختلاف کو دبانے اور اقلیتوں کو یہ پیغام دینے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ملک میں غیر محفوظ اور غیر مطلوب ہیں۔ “عدالتی احکامات” کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل قانون کے غیر مساوی نفاذ اور طاقت کے سیاسی استعمال کی بدترین مثال ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ انتہاپسندانہ رجحان اب صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہا۔ مدھیہ پردیش میں جین برادری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ عدم برداشت کی یہ آگ اب دیگر اقلیتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ایک معمولی تنازعے پر مذہبی جذبات کو ہوا دینا، پھر پرامن احتجاج پر پولیس کا وحشیانہ لاٹھی چارج اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال انصاف کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول اور خوف کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت کے مشتہرسیکولر تشخص کا دعویٰ مکمل طور پر کھوکھلا نظر آتا ہے۔
عیسائی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے بھی اسی منظم نفرت کا حصہ ہیں۔ 2025 میں سینکڑوں واقعات، کرسمس کے دوران تشدد میں اضافہ، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی تقریبات میں خلل، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سنگھ پریوار کے نظریے میں اقلیتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ انسدادِ تبدیلی مذہب قوانین اور ایف سی آر اے جیسے قوانین کا غلط استعمال، این جی اوز کو دبانے اور اقلیتی فلاحی کاموں کو محدود کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے جس سے سماجی تانا بانا مزید کمزور ہو رہا ہے۔
اس پوری صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بھارت کی سرحدوں سے باہر بھی اس نظریے کی برآمد شروع ہو چکی ہے۔ بھارتی سرحد سے متصل نیپال کے شہر برگنج میں مسجد پر حملہ اور اس کے بعد کرفیو کا نفاذ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو فسطائیت اب پورے خطے کے لئے وباء بن رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بھارت کی داخلی پالیسی اس کے ہمسایہ ممالک کے امن کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
اسی دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا اجازت نامہ بھی منسوخ کیا گیا جو اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح تعلیم کو بھی فرقہ وارانہ سیاست کے ہاتھوں یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ میرٹ پر کامیاب ہونے والے کشمیری مسلمان طلبہ کے خلاف انتہاپسند تنظیموں کا دباؤ اور پھر اچانک انتظامی فیصلے، اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے لیے ترقی، تعلیم اور برابری کے دروازے دانستہ بند کیے جا رہے ہیں۔ مسلم علی گڈھ یونیورسٹی اور جامع ملیہ اسلامیہ کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں کی کثیر الاقونی اور کثیر المذاہب ملک میں کوئی فرقہ کسی تعلیمی ادارے کو کیسے صر ف اپنے لئے مخصوص کرسکتا ہے۔ان جامعات میں ہندو طلبہ ، استاتذہ اور انتظامیہ کو گھساکر تقریبا قبضہ کرلیا جاتا ہے جبکہ وشنودیوں یونیورسٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ہندوؤں کے لئے مخصوص ہونی چاہئے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیاز، مسماری، تعلیمی استحصال ،قانونی جبر اور تہذیبی سیاسی اور معاشی تطہیر ایک مربوط پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف آئین، جمہوریت اور سیکولرازم کے دعووں کی نفی کرتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اگر عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خود بھارت کے اندر موجود باشعور طبقات نے اس رجحان کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر آواز نہ اٹھائی تو یہ آگ مزید پھیلے گی اور اس کے شعلے صرف بھارتی اقلیتوں اور مجموعی طور پر پورے بھارتی معاشرے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ پورےجنوبی ایشیاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button