بھارت کا G7 سے ممکنہ اخراج، مجرم کی شناخت کے مترداف
"وشوء گرو" کے غبارے سے ہوا نکل گئی تحریر: ارشد میر
بھارتی حکمران اور گودی میڈیا ایک عرصہ سے بھارت کوتیزی سے ترقی کرتے ایک ملک کے طور پر پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے لئے وہ اس کی بڑھتی ہوئی معیشت، عالمی سپلائی چینز میں اس کے اہم کردار، اور براعظموں میں اس کی اسٹریٹیجک شراکتوں کی مثالیں دیتے تھے۔بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تو بار بار اور بڑے غرور کے ساتھ بھارت کے "وشوء گرو” بننے کے دعوے کرتے نظر آرہے تھے۔حالانکہ جس ملک کی شرح خواندگی بدستور 80 فیصد سے نیچے ہو، جس کے ہاں دنیا کی سب سے زیادہ یعنی 33,510 جھونپڑ بستیاں ہوں جن میں 65 ملین سے زائد لوگ کسمپرسی کی زندگی گذارتے ہوں۔ جسکے ہاں 21 صدی میں بھی حکومت کو بیت الخلاء کی سہولت فراہم کرنے کے لئے 12192 کروڑ خرچ کرنا پڑتے ہوں مگر اسکے باوجود 522ملین لوگوں کے پاس یہ سہولت میسر نہ ہو تو اس ملک کے بارے میں اتنے بڑے بول بولنا اپنے آپ کو مذاق کا سامان بنانے کے مترادف ہے۔
حالیہ واقعاتظاہر کرتے ہیں کہ "وشوء گرو” کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی ہے اسی طرح جس طرح وہ پاکستان پر اپنی روائتی فوجی پرتری پر اتراتا تھا مگر حالیہ جنگ میں وہ علامتی برتری بھی کھو بیٹھا اربوں ڈالر کے نقصانات اور قومی عزت و قار کی دھجیاں اڑنے کے ساتھ۔
اب خبر اور وہ بھی بھارتی میڈیا کی یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی کو ابھی تک کینیڈا میں ہونے والےG7 کےسربراہ اجلاس میں شرکت کا باضابطہ دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔ بلکہ ممکنہ خفت کے پیش نظربھارت میں کہا جا رہا ہے کہ اگر دعوت دی گئی تب بھی مودی غالباً اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔کینیڈین جی 7 ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا مودی کو دعوت دی جائے گییا نہیں۔
یہ اجلاس اسی ماہ کی 15 سے 17 تاریخ کوکینیڈا کی میزبانی میں ہورہا ہے۔ اگر نریندر مودی کو دعوت نہ ملی یا اپنے سیاہ کرتوت کی وجہ سے وہاںحاصل ہونے والی ممکنہ خفت کے پیش نظر وہ جانے سے اجتناب کرتے ہیں تو یہ 6 برسوں میں پہلی بار ہوگا جب مودی G7سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتے بھارت کے ممکنہ اخراج یا نظر انداز کئے جانے کی علامات اس کی بین الاقوامی حیثیت میں تنزلی کے ایک نئےموڑ کا عندیہ دے رہے ہیںجو اسکی ریاستی سرپرستی میں بیرون ملک دہشت گردانہ کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے الزامات اور جمہوری زوال کے سبب پیدا ہوئی ہیں۔
جی 7 دنیا کی سات بڑی صنعتی طاقتوں کا گروپ ہے جو نہ صرف معاشی معاملات بلکہ جمہوری اقدار اور عالمی نظم و نسق کے بارے میں اہم فیصلے کرتا ہے۔ اگرچہ بھارت باقاعدہ طور پرG7 کارکن نہیں ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کو اس کے اجلاسوں میں بطور مہمان شرکت کے لئے باقاعدگی سے مدعو کیا جاتا رہا ہے جو عالمی سطح پر بظاہر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ اہمیت اپنی اہلیت سے زیادہ مغربی جمہوریتوں کی اس حکمت عملی کے تحت ملی کہ بھارت کو چین کے اثر و رسوخ کے خلاف ایکcounterbalanceاوراپنے مفاد کےایک’آزاد بین الاقوامی نظام’کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ لیکن اب بھارت کو مستقبل کے عالمی کھیل سے باہر رکھنے کی سرگوشیاں اسکے بطور ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی ہونے کی ساکھ پر سوال اٹھاتی ہیں۔اور یقینا یہ ایک نئی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ بھارت اب ان عالمی قوتوں کے لیے ایک بااعتماد اور "جمہوری” شراکت دار نہیں رہا۔
بھارت پر سنگین الزام یہ ہے کہ اس کا ریاستی سطح پر غیر ملکی سرزمین پر اپنے مخالفین کو قتل کئے جانے کے منصوبوں میں ملوث ہے۔بھارتی ایجنسی RAW کے ہاتھوں کنیڈا میں ہردیپ سنگ نجر سمیت دو سکھ راہنما قتل کئے گئے۔ جبکہ اسی طرح امریکہ میں مقیم خالصتان پسند سکھ راہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش امریکی سی آئی اے نے بروقت ناکام بنادی تھی۔ بعد میں آنے والی رپورٹس میں معلوم ہوا کہ ان واقعات میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ براہ راست ملوث ہیں کہ وہ خود ان حملوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ مغربی، خاص طور پر کینیڈا اور امریکہکی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں نے کھل کر کہا کہ ان کے پاس بھارت کی طرف سے خالصتان پسند سکھ رہنماؤں کو قتل کرنے کے ناقابل تردید شواہد ہیں جو بھارتی حکومت کو بھی دئے گئے مگر اس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ بلکہ سابق کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خود اپنے کئی بیانات میں کینیڈا میں جون 2023 کو خالصتان تحریک کے سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر سمیت دو سکھ رہنماؤں کے قتل میں مودی حکومت کو ذمے دارٹھہرایا تھاجس کے بعد کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ پڑگئی اور دونوں نے سفارتی عملے میں کمی بھی لائی تھی۔ امریکہ اس ضمن میں کھل کر کنیڈا کی حمایت کا اعلان کیا۔ اگرچہ بھارت نے ان الزامات کی تردید کی ہے، لیکن وہ کنیڈا اور امریکہ کو مطمئن کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہا جس کے بعدازں سنگین سفارتی نتائج برآمد ہوئے۔
اگرچہ ان الزمات کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ان کے مضمرات پہلے ہی بھارت کے مغربی طاقتوں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں دراڑ کی صورت میں سامنے آچکے ہیں۔اگربھارت کے یہ جرائم ثابت ہوئے یا بھارت ان سے اپنی لاتعلقی کو ثابت نہ کرسکا تو مبصرین کہتے ہیں کہ یہ بھارت کو غیر جمہوری ریاستوںیاان ممالک کے ساتھ جوڑنے کاکافی جواز مہیا کرے گاجو سرکش ہیں اور طویل عرصے سے جاسوسی اور قتل کو ریاستی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے کرتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے دہشت گردی کرارہا ہے جس کی وجہ سے تقریبا 60 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور بنیادی ڈھانچہ کو 100 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔ بھارت پاکستان میں نہ صرف خوارج TTP اور بلوچ دہشت گردوں کی ہر طرح کی اعانت کرنےکے ساتھ ساتھ سی پیک کو بھی نشانہ بنارہا ہے بلکہ چن چن کر نہتے لوگوں کو بھی قتل کرواتا ہے۔ اس ضمن میں اب تک کراچی سے لیکر آزاد کشمیر تک 25 سے زائد افراد قتل کئے جاچکے ہیں۔بعض بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کو پہلے ہی ان ممالک کی فہرست میں درج کرچکی ہیں جو اپنے مخالفین کو اپنی سرحدوں سے باہر نشانہ بناکر قتل کرتی ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس نے دہائیوں سے اپنے بارے میں جس جمہوریت کی نیلم پری کی نمائش کی اب دنیا جان رہی ہے کہ وہ اصل میں ہندو فسطائیت کی ایک خوفناک ڈائن ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کی ذیلی ایجنسیاں بھارت میں بڑھتے ہوئے فاشزم پر بارہا رپورٹیں جاری کر چکی ہیں۔ جب ایک ملک جمہوریت کے دعوے تو کرے، مگر اندرونی طور پر آمریت کے راستے پر گامزن ہو، تو اس پر اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اپنی آزادی کے بعد بائیں بازو کی خود ساختہ جمہوری اور سکیولر جماعتوں کی حکومتوں کے دوران بھی بھارتی جمہوریت لولی لنگڑی رہی ہے۔ تاہم 2014 میں آئی ہندو فسطائی بی جے پی کی حکومت نے جس بڑے پیمانے پر اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کو نشانہ بنایا، پریس کی آزادی کو محدود ، صحافیوں کو قتل ، اپوزیشن رہنماؤں کو قید، عدلیہکو اپنے تابع اور انسداد دہشت گردی کے ڈریکونی قوانین بناکر ان کا وحشیانہ استعمال کیا اس نے بھارتی جمہوریت کے جھوٹے تاثر کو بھی زائل کیا۔یہ سب مغربی دنیا کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ نمائشی جمہوری اقدار کیبھی تنزلی ہوئی جس نے بھارت کے اخلاقی اختیار کو کمزور کردیا ، خاص طور پر جب وہ اپنے آپ کو عالمی جنوب کے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب وہ قوتیں بھی اس سے دامن بچارہی ہیں جو اسے علاقائی یا اسٹریٹیجک مفادات کی خاطر گود لینے کا فیصلہ کرچکی تھیں۔ مغربی جمہوریتیں، جو اکثر اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی خاطر بعض داخلی پالیسیوں کو نظر انداز کرتی ہیں ، اب بھارت کے حدود پھلانگنے کے بعد اسے یہ رعایت دینے کے لئے بھی تیار نظر نہیں آتیں۔
اگر بھارت کو فی الواقع G7 کے اندرونی حلقے سے خارج کر دیا جاتا ہے تو اس کا علامتی نقصان کافی بڑا ہوگا۔ یہ بھارت کے بطور قابل بھروسہ شراکت دار ہونے پر سوالات اٹھائے گا ۔
بھارت ایک سفارتی موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ ملک جو ایک وقت پر عالمی حکمرانی کے اعلیٰ میدان میں مستقل طور پر بیٹھنے کے لئے پرامید نظر آرہا تھا بلکہ اسکے غرور میں اپنے ہمسائیوں پر رعب جماتا تھا ، اب اپنے ہی کالے کرتوت کے سبب تنہاء اور اجنبی ہوتا نظر آرہا ہے۔
جی 7 سے اخراج اور مغربی ممالک سے تعلقات کی خرابی کے بعد بھارت شاید چین، روس، یا ایران جیسے ممالک کے ساتھ قریبی اتحاد کی کوشش کرے، مگر یہ اتحاد بھارت کے "وِشن انڈیا” یا "عالمی قائد” کے خواب سے میل نہیں کھاتے۔ دنیا کی نظر میں قیادت کا مطلب صرف طاقت نہیں، بلکہ اعتماد، اصول، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی ہے۔
بھارت آج ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔یا تو وہ اپنی خارجہ پالیسی، اندرونی طرزِ حکمرانی، اور عسکری حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے مسلہ کشمیر تاریخی، زمینی حقائق اور قانونی بنایدوں پر حل کرے اور دنیا کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے، یا پھر عالمی تنہائی، علاقائی کمزوری، اور اندرونی خلفشار کا سامنا کرے۔ جی 7 اجلاس سے اخراج اور پاکستان کے ہاتھوں عسکری شکست اس بات کی علامتیں ہیں کہ محض آبادی، معیشت یا اسلحہ رکھنے سے عالمی وقار حاصل نہیں ہوتا۔یہ وقار حاصل کرنے کے لیے ایک ذمہ دار ریاست بننا پڑتا ہے۔






