بھارت

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہندو انتہاپسندوں کا احتجاج کرنے والے طلباءپر حملہ

نئی دہلی:نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پیر کو اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بیان کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباءپر انتہاپسند ہندو تنظیموںسے وابستہ غنڈوں نے حملہ کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تصادم بائیں بازو کی طلباءتنظیموں کی طرف سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بیان کے خلاف جاری احتجاجی ہڑتال کے دوران ہوا جس میں دلت طلباءکے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ احتجاج کرنے والے طلباءکا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کابیان اشتعال انگیز ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب حریف طلباءتنظیموں کے ارکان ایک انتظامی بلاک کے قریب جمع ہوئے جہاں احتجاج جاری تھا۔ زبانی بحث تیزی سے جسمانی جھگڑے میں تبدیل ہوگئی اورکئی طلباءزخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایمبولینسیں بلائی گئیں۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) نے کہا کہ احتجاجی طلباءپر کیمپس کے اندر حملہ کیا گیا اور بی جے پی کی طلباءونگ اے بی وی پی کے کارکنوں نے جان بوجھ کر پرامن احتجاج میں رکاوٹ ڈالی۔ طلباءیونین کے نمائندوں نے تشدد کو اختلاف رائے کو دبانے اور انتظامی فیصلوں پر سوال اٹھانے والوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا۔اس واقعے نے یونیورسٹی کے اندر کشیدگی کو بڑھا دیا ہے جسے طویل عرصے سے سیاسی سرگرمیوںاور نظریاتی تصادم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلباءتنظیموں کے درمیان بار بار ہونے والے تصادم بھارت کے تعلیمی شعبے میں بڑھتی ہوئی نظریاتی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button