بھارت میں کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں معلومات کے حق کے کارکن اور جموں و کشمیر پیپلز فورم کے چیئرمین ایم ایم شجاع نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں رہنے والے، تعلیم حاصل کرنے یا کاروبار کرنے والے کشمیریوں کے تحفظ اوراحترام کو یقینی بنائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایم ایم شجاع نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری پورے بھارت میں اسی احترام اور دیکھ بھال کے مستحق ہیں جو وہ وادی کشمیرمیں آنے والے سیاحوں اور یاتریوں کو دیتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیریوں نے متعدد مواقع پر مشکل حالات میں سیاحوں اور یاتریوں کو پناہ، خوراک اور تحفظ فراہم کیا ہے، حتی کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ان کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے برعکس کشمیری طلباء اور تاجروںباالخصوص شال فروشوں کو بھارت میںاکثر تشدد، ہراسانی، پوچھ گچھ اور ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو ہندوانتہا پسند عناصر انجام دیتے ہیں جس سے کشمیریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ایم ایم شجاع نے بھارتی وزارت داخلہ پر زور دیا کہ وہ موثر اقدامات کرے اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کرے تاکہ کشمیری طلباء اور تاجروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت بھر میں کشمیریوں کو بار بار نشانہ بنانا ہندوتوا پر مبنی ماحول میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکامی کشمیری عوام کو مزید الگ تھلک کر دے گی اور بھارت کے جمہوریت، سیکولرازم اور تکثیریت کے دعوئوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ہماچل پردیش، پنجاب اور ہریانہ سمیت متعدد بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلباء اور تاجروں کو ہراساں کرنے، تشدد کانشانہ بنانے اور ہاسٹلوں اور کرائے کی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ روز ہماچل پردیش میں ضلع کانگڑا کے علاقے ڈیرہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک کشمیری شال فروش جہانگیر احمد پر وحشیانہ حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، دھمکیاں دیں، اس کے سامان کو تہس نہس کردیا اور اسے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کے لئے کہا۔ جہانگیر احمد جو گزشتہ 15 سال سے علاقے میں پرامن طریقے سے شالیں فروخت کر رہا ہے، شدید زخمی ہوا اور اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔اس سے قبل 22دسمبر 2025کو اتراکھنڈ کے ضلع ادھم سنگھ نگر میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک 28سالہ کشمیری شال فروش بلال احمد گنائی پر حملہ کیا اوراسے” بھارت ماتا کی جے” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ایک اور واقعے میں کپواڑہ کے ایک 45سالہ شال فروش منور شاہ کو ہماچل پردیش میں دو موٹر سائیکل سوار وں نے روکا اور پوچھ گچھ کی اور اس سے انٹری کارڈ اور آدھار کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح پنجاب کے ضلع جالندھر میں تین موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ایک اور کشمیری شال فروش شفیع کھوجہ کو 18جنوری 2025کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چاقو سے وار کیا جس سے ان کے سر پر 12اور ٹانگوں پر چھ ٹانکیں لگیں۔





