بھارت

بھارتی سپریم کورٹ کے جج نے چکن بریانی کھانے پر مسلمان نوجوانوں کو جیل بھیجنے پر سوال اٹھایا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجل بھویان نے اتر پردیش کے علاقے وارانسی میں دریائے گنگا میں کشتی پر افطار کے دوران چکن بریانی کھانے پر جیل میں ڈالے گئے 14 مسلمان نوجوانوں کی گرفتاری اور طویل قید پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو معمول کے کام کو جرم قراردینے کی ایک پریشان کن مثال قرار دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس اجل بھویان نے بھوپال میںنیشنل لا انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی (NLIU) میں ایک تقریبسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو کسی ایسی چیز کے لیے تین مہینے جیل میں گزارنے پڑتے ہیں جو کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے گنگا میںچکن کے استعمال پر پابندی کاکوئی قانون نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ چکن بریانی کا استعمال جرم نہیں ہے،یہ کوئی جرم نہیں ہو سکتا اورانہیں اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور تین ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔مسلمان نوجوانوں کو مارچ میں اس الزام کے بعد گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کشتی کی سواری کے دوران افطاری میں چکن بریانی کھائی اورمذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے گوشت کی باقیات کو دریا میں پھینک دیا۔ ان پر بھارتیہ نیا ئے سنہتا کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے، دشمنی کو فروغ دینے، امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات شامل ہیں۔جسٹس بھویان نے کہا کہ یہ کیس ایک پریشان کن رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں پرامن اور عام فعل کو جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا حق شہریوں کی بنیادی آزادی میں آتاہے۔ بحث اور اختلاف جمہوریت کا کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے عام سرگرمیوں کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔جج نے کہاکہ ماحول پر تشویش کا اظہار کرنے والے لوگوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور طلباءکیمپس میں احتجاج پر ایک ماہ سے زیادہ جیل میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ماحولیاتی تباہی پر اپنے دکھ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک حقیقت ہے، ان کا مجرموں کی طرح پیچھا کیا جاتا ہے۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلباءکو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں 30سے40 دنوں تک ضمانت نہیں ملتی۔ انہوں نے عدالتوں کی طرف سے ضمانت پر عائد کی جانے والی شرائط پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ اگرچہ خوش آئند ہے لیکن یہ فیصلہ دوسال تاخیر سے آیا ۔جسٹس بھویان نے بمبئی ہائی کورٹ کی طرف سے فلسطین کے حق میں مظاہرے کی اجازت نہ دینے پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایاکہ ایک ایسے ملک میں جو فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کرتا ہے، یکجہتی کے پرامن اظہار کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button