بھارت

بھوک کے بڑھتے بحران کے دوران بھارت کے اقوام متحدہ میں غذائی تحفظ کے دعوے محض ڈرامہ قرار

یو این ایچ آر سی میں بھارت کے بیانیے پر سوالات، غذائی قلت اور کسانوں کے مسائل نمایاں

جنیوا:بھارت کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے موقع پر شدید سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑ جب بھارتی مندوب نے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ کی تعریف کی کوشش کی تو انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک میں بڑھتی ہوئی بھوک، غذائی قلت اور جبر کی صورتحال کو اجاگر کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق اور بین الاقوامی کمپنیوں سے متعلق انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران بھارتی مندوب نے دعوی کیا کہ زراعت بنیادی طور پر ذریعہ معاش اور غذائی تحفظ سے متعلق ہے اور کسانوں پر مرکوز پائیدار غذائی نظام کے عزم کا اظہار کیا۔تاہم انسانی حقوق گروپوں نے بھارتی دعوئوں کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے۔5کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پانچ سال سے کم عمر 35فیصد سے زائد غذائیت کی کمی جبکہ تقریبا 19 فیصد بچے کم وزن کا شکار ہیں، جس سے طویل عرصے سے جاری غذائی بحران کی عکاسی ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق قرضوں، معاشی دبا ئواور کارپوریٹ مفادات کے باعث بھارتی کسانوں کی خودکشیاں بھی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہیں، جبکہ حکومت پر الزام ہے کہ وہ مقامی غذائی خودمختاری کے بجائے برآمدات کو ترجیح دے رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button