اتر پردیش : ہندوتوا گروپ کی مسلم دکاندار کو دھمکی، دکان بند کرانے کا اعلان

لکھنو :بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک مسلم دکاندار کو ہندوتوا گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ہندتوا گروپ کے ارکان نے اعلان کیا کہ وہ دکان دوبارہ کھلنے نہیں دیں گے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ورنداون کے ٹریڈز مال میں پیش آیا، جو پی جی آئی پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے۔ نام نہاد "گا ئورکشک” راجا راوت کی قیادت میں ایک گروپ نے عارف مرادآبادی کے زیر انتظام ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا۔ ہندوتوا گروپ کے ارکان نے روٹیوں پر تیل لگانے والی لکڑی کی چھڑی پر بندھے دھاگے پر اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہندو مذہبی دھاگا "کلاوا” ہے۔ انہوں نے ایک غیر سبزی خور کھانے کے مرکز میں اس کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے دکان بند کرانے کی دھمکیاں دیں۔ہندوتوا گروپ نے روٹیوں پر تیل لگانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی کی چھڑی کے گرد بندھے ہوئے دھاگے پر اعتراض کیا اور دعوی کیا کہ یہ کلاوا، ایک مقدس ہندو دھاگہ ہے، اور نان ویجیٹیرین کھانے میں اس کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں۔ گروپ نے ریستوران بند کرنے کی دھمکیاں دیں ۔سوشل میڈیا پروائرل واقعے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ گروپ کے 6 سے 7ارکان دکاندار کو ہراساں کرتے ہوئے خبردار کررہے ہیں کہ اسے دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیاہے اور الزام عائد کیا ہے ہ دکاندار کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنا کر اس کے روزگار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایک صارف نے ایکس پر لکھاکہ قانونی نظام ان افراد کو مذہب کے نام پر کھلے عام دھمکیاں دینے اور تشدد پر اکسانے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟تاحال پولیس کی جانب سے کسی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔








