انسداد منشیات کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کو مسمار،ضبط کیاجارہا ہے :وزیرصحت کا اعتراف

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک وزیر نے انسداد منشیات کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کو مسمار اور جائیدادوںکو ضبط کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیرکی وزیر صحت اور تعلیم سکینہ ایتو نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ ہندو اکثریتی خطے جموں میں منشیات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ جابرانہ کارروائیاں مسلم اکثریتی وادی کشمیر میںکی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں وزیر صحت کی حیثیت سے بتارہی ہوں کہ جموں میں منشیات کے عادی افراد زیادہ ہیں، لیکن لوگوں کے گھرکشمیر میں گرائے جا رہے ہیں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا جارہا ہے، کیوں؟ان کا بیان نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت قابض انتظامیہ کی طرف سے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں جاری کارروائیوں کے تناظر میںسامنے آیاہے جس میں لوگوں کے گھروں کو مسمار اورضبط کیاجارہاہے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ اس طرح کے تعزیری اقدامات قانونی اور اخلاقی طور پر بلاجواز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی ترجیح نوجوانوں کو منشیات سے بچانا ہونا چاہیے نہ کہ خاندانوں کو سزا دینا ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے انسداد منشیات مہم کی آڑ میں کشمیریوں پر ریاستی نگرانی اورظلم و جبر تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کالے قوانین کے تحت جبری نظربندیاں تحریک آزادی کو دبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قراردینے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک آزادی کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کے لئے خطرہ قراردے رہی ہے۔



