قابض حکام کی جانب سے ڈاکٹر فائی کی جائیداد ضبط کرنے کی مذمت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے امریکہ میں مقیم ممتاز کشمیری دانشور اور لابیسٹ ڈاکٹر غلام نبی فائی کی جائیداد ضبط کرنے کے قابض حکام کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے اسے انتقامی کارروائی اور ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے منصفانہ کاز کی مسلسل وکالت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنا ہے ۔ڈاکٹر غلام نبی فائی مادروطن کے ان قابل فخر بیٹوں میں سے ایک ہیںجو طویل عرصے سے کشمیر کاز کی وکالت کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ اقدامات کشمیری کارکنوں کو جدوجہد کرنے سے نہیں روک سکتے جس کے لیے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر فائی کے ساتھ ساتھ بھارتی قابض حکام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی کوشش کرنے پر متعدد جلاوطن کشمیری کارکنوں اور حریت رہنمائوں کی جائیدادیں بھی ضبط کررکھی ہیں۔انہوں نے دہلی کی ایک عدالت کی طرف سے سید صلاح الدین کے دو بیٹوں سمیت کشمیری نظربندوں کی ضمانت کی درخواستوں کو بار بار مسترد کئے جانے کی بھی شدید مذمت کی اور اسے نظربندی کو جان بوجھ کر طول دینے کا پرانا ہتھکنڈاقرار دیا۔
دریں اثناء کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR)کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اسلام آباد میں ایک بیان میں ڈاکٹر فائی کی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی کو اختلافی آوازوں کو دبانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ یہ جابرانہ اقدامات تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر اور عالمی فورمز پر بھارت کے بیانیے کو چیلنج کرنے والے کارکنوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ املاک کی ضبطی سمیت جلاوطن کارکنوں اور حریت نمائندوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں ماضی میں بھی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام رہے ہیں۔انہوںنے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروںسے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیں اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حامیوں کوہراساں اورخاموش کرانے کی کوششوں پر بھارت کوجوابدہ ٹھہرائیں۔








