کشمیری روز بھارت کے ناجائز قبضے کی قیمت چکارہے ہیں

جموں : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع کشتواڑ کے ایک گاوں میں اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب ایک ماں جانہ بیگم کی المناک کہانی سامنے آگئی جس کی آخری خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو گھر میں دیکھے جوپوری نہ ہوسکی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جانہ بیگم کے بیٹے ریاض احمد نے مسلسل چھاپوں اور ہراساں کیے جانے سے تنگ آکر اپنی والدہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجوداپنا گھر چھوڑ دیا اور روپوش ہونے پرمجبورہو گیا۔جانہ بیگم اوراس کے شوہرنے اپنے بیٹے سے گھرواپس آنے کی التجا کی تھی لیکن بھارتی فورسز کے مظالم کی وجہ سے وہ نہیں آسکے۔تین دن پہلے جب لوگ جانہ بیگم کی تدفین کے لیے جمع ہوئے تو ان کا بیٹا جنازے سے غائب تھا کیونکہ وہ اس بات سے بے خبر تھاکہ وہ انتقال کر گئی ہیں۔ جانہ بیگم کی آخری خواہش ادھوری رہ گئی۔جانہ بیگم کا سانحہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے کی انسانی قیمت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی کہانی ان بے شمار والدین کی علامت ہے جو اپنے بچوں کے انتظار میں جان جان آفرین کے حوالے کرگئے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ کشمیری روز بھارت کے ناجائز قبضے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔






