مقبوضہ کشمیر : محکمہ بجلی کے 22ہزار سے زائد ملازمین کی مجوزہ بجلی ترمیمی بل کیخلاف ہڑتال

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں محکمہ بجلی کے 22ہزار سے زائد ملازمین مجوزہ بجلی (ترمیمی) بل 2025 کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے طور پر آج ایک روزہ ہڑتال کر رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملازمین کے رہنما انجینئر پیرزادہ ہدایت اللہ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بجلی کے ملازمین بجلی (ترمیمی) بل 2025 کی مخالفت اور جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں۔
ملازمین رہنماﺅں کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن، جنریشن اور ٹرانسمیشن کی نجکاری غریب صارفین، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور عام لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ ٹیرف اور جوابدہی میں کمی واقع ہوتی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں بجلی ملازمین ہڑتال کے ساتھ ساتھ مظاہرے اور احتجاج بھی کر رہے ہیں۔
یا د رہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت بھر میں بھی آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن (اے آئی پی ای ایف) نے مجوزہ نجکاری کے خلاف ہڑتال کی کال دی ہے اور پورے ملک میں تقریباً 27 لاکھ (2.7 ملین) بجلی ملازمین اور انجینئروں ہڑتال پر ہیں۔
اے آئی پی ای ایف کے چیئرمین شیلیندر دوبے نے نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہڑتال کا مقصد نجکاری کی مخالفت کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی پالیسیاں پبلک سیکٹر کی افادیت کو کمزور کر سکتی ہیں اور ملازمتوں کے تحفظ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
میکت کسان مورچہ اور دس ٹریڈ یونین بجلی ملازمین کے ساتھ یکجہتی میں شامل ہو کر ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔







