بھارت

دلی یونیورسٹی نے داخلہ پورٹل میں ماردی زبان کے خانے سے اردو کو ہذف کردیا

نئی دہلی:حال ہی میں شروع کیے جانے والے دہلی یونیورسٹی کے انڈر گریجویٹ داخلہ پورٹل میں مادری زبان کے خانے سے اردو کو ہذف اور اسکی جگہ ”مسلم“ درج کیے جانے کے اقدام نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اسکی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اردو بھارت میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ 22زبانوں میں سے ایک ہے اور یہ کروڑوں بھارتی بولتے ہیں۔ ڈیموکریٹک ٹیچرز فرنٹ (ڈی ٹی ایف) کے جنرل سکریٹری ابھا دیو حبیب نے یونیورسٹی کے اس نئے پورٹل کو "اسلامو فوبک ” قرار دیا ہے۔ انہوںنے سوال کیا کہ ایک مرکزی یونیورسٹی اس طرح کا متنازعہ پورٹل کیسے بنا سکتی ہے؟ یہ فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن ڈاکٹر متھوراج دھوسیا نے کہایہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ یونیورسٹی نے ایسی غلطی کی ہے۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ زبانوں کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں مٹایا جائے۔
کیروری مال کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے ایک منتخب رکن ردراشیش چکرورتی نے داخلہ فارم کو فرقہ پرستی کا مظہر قرار دیتے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوںنے کہا کہ یہ اقدام ایک مرکزی یونیورسٹی کی جامع روح کو مجروح کرتا ہے اور آئینی تحفظ کی خلاف ورزی ہے

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button