بنگلہ دیش

بنگلہ دیشی سٹوڈنٹس لیڈر عثمان ہادی کے قتل کیس میں پیش رفت، 2 ملزمان بھارت میں گرفتار

نئی دلی:
بھارتی پولیس نے 2بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر مبینہ طورپر ڈھاکہ میں ایک مقبول طالب علم رہنما کے قتل کا الزام ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ یہ دونوں ملزمان مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئے تھے۔بھارت کے سخت ناقد سمجھے جانیوالے بنگلہ دیشی طلبہ رہنما شریف عثمان ہادی 2024میں شیخ حسینہ واجدکی حکومت کے خلاف ہونے والی عوامی تحریک میں سرگرم تھے۔تحریک کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑکر بھارت فرارہونا پڑاتھا۔عثمان گزشتہ سال نقاب پوش حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے تھے، بعد ازاں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔بنگلہ دیشی پولیس کا دعویٰ تھا کہ قاتل واردات کے بعد بھارت فرار ہو گیا تھا۔بھارت کی سرحدی ریاست مغربی بنگال کی پولیس نے کہا ہے کہ ان کی تحویل میں موجود 2 بنگلہ دیشی شہریوں سے ابتدائی تفتیش میں اشارہ ملا ہے کہ وہ عثمان شریف ہادی کے قتل میں ملوث تھے۔عثمان شریف ہادی کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں شدید احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ مشتعل ہجوم نے کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا جن میں بھارت نواز سمجھے جانے والے 2 بڑے اخبارات اور ایک اہم ثقافتی ادارہ بھی شامل تھا۔اس واقعے نے بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا، جو پہلے ہی شیخ حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد سے تنائو کا شکار ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button