جمہوریت کا فیصلہ عالمی نگرانی کرتی ہے، افواہیں نہیں: بنگلہ دیش کے انتخابات شفاف قرار
اسلام آباد:
بنگلہ دیش کی طرف سے ملک میں آئندہ عام انتخابات کیلئے 330بین الاقوامی مبصرین کی تصدیق، انتخابات کے شفاف، آزاد اور قابل اعتماد ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 12فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی مانیٹرینگ کیلئے یورپی یونین، او آئی سی، کامن ویلتھ، این فریل، انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ سمیت 330بین الاقوامی مبصروں کی تصدیق کی ہے ۔ ماہرین کے مطابق جمہوریت کا فیصلہ عالمی نگرانی کرتی ہے، افواہیں نہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے شفاف،آزادانہ اور غیر جانبدارنہ انتخابات کویقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی مبصرین کی تصدیق کی ہے ۔ انتخابات کی نگرانی کیلئے اتنی بڑی تعداد میں عالمی مبصرین کی موجودگی سے انتخابات سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں اور منفی بیانیے دم توڑ چکے ہیں اورانتخابات کی شفافیت، آزادی اور ساکھ پر عالمی برادری کی مہر ثبت ہو گئی ہے۔او آئی سی کے انتخابی مشن کی قیادت ایک پاکستانی نمائندے کے پاس ہے ، جو پاکستان کے جمہوری اقدار اور بین الاقوامی انتخابی نگرانی میں فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انتخابات میں 50سے زائد سیاسی جماعتوں کے تقریبا 2ہزار امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جسے بنگلہ دیش میں سیاسی تنوع اور عوامی شرکت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں جمہوری اقدار، سیاسی استحکام اور عوامی رائے کے احترام کا حامی ہے۔






