بنگلہ دیش

شیخ حسینہ واجد کو اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے فوری طورپر وطن واپس لایا جائے ، عوام کا مطالبہ

اسلام آباد:بنگلہ دیش کے عوام نے طلبہ کے شدید احتجاج کے بعد بھارت فرار ہونیوالی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجدکی وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کر سکیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بنگلہ دیش سے فرار کے بعد شیخ حسینہ واجدکے بھارت میں طویل قیام نے عوام میں گہرے شکوک و شبہات کوجنم دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ طویل عرصے سے شیخ حسینہ واجدکی حکومت بھارت کی حمایت کی وجہ سے قائم تھی ۔ناقدین نے سابق وزیر اعظم کے آمرانہ کریک ڈائون، اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور متنازعہ ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کے نفاذ پر کڑی تنقید کی ہے۔ان کاکہنا ہے کہ بھارت نے شیخ حسینہ کی حکومت کو بچانے کیلئے بنگلہ دیش کے عوام کی جمہوری خواہشات کو بری طرح پامال کیا ۔ ناقدین نے شیخ حسینہ واجد کی بھارت سے فوری واپسی اور قانون کا سامنا کرنے کااپنا مطالبہ دہرایا ہے ۔2018کے انتخابات سے قبل حسینہ واجد کی اہم حریف خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں قیدکردیاگیاتھا۔ تاہم انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے باوجود بھارتی حکومت نے فوری طورپر حسینہ واجد کو ان متنازعہ انتخابات میں کامیابی کی مبارکبادی تاکہ ان کی حکومت کو سند اعتراف دیا جاسکے ۔بھارت میں دی گارڈین کی نمائندہ ہننا ایلس پیٹرسن کے مطابق سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کو بھارت کا سب سے بڑااتحادی سمجھا جاتا ہے ۔ حسینہ واجد کے 1996سے2001اور 2009 میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد بنگلہ دیش میں بھارت کا اثر ورسوخ تیزی سے بڑھا اور بھارت کیلئے آبی گزرگاہیں کھولی گئیں اور کاروباری معاہدے طے کئے گئے ۔بھارت نے نہ صرف حسینہ واجد کی بڑھتی ہوئی آمریت کو نظر انداز کیا بلکہ اس پر بین الاقوامی سطح پر بنگلہ دیش میں سیاسی مداخلت کاالزام بھی لگایاجاتا ہے جس کا مقصد حسینہ واجد کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا اور دوسرے ممالک کو حسینہ واجد کی حکومت کو جائز قراردینے کیلئے دبائو بڑھانا تھا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے جون 2022کے جائزے میں کہاگیا تھاکہ شیخ حسینہ واجدکی حکومت نے 2018میں نافذ کئے گئے ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کوحزب اختلاف اور سیاسی مخالفین کو دبانے اور دیوار سے لگانے کیلئے استعمال کیا۔الجزیرہ سے وابستہ سنجا کپور کے مطابق بنگلہ دیش سے فرار ہو کر حسینہ واجد جب نئی دلی کے قریب ایک فضائی اڈے پر پہنچی تو انکا استقبال بھارت قومی سلامتی کے مشیر اور را کے نگران اجیت ڈوول نے کیا۔اجیت ڈوول پر طویل عرصے سے بنگلہ دیش کے داخلی معاملات اور دیگر ہمسایہ ممالک کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔بنگلہ دیش کے عوام شیخ حسینہ واجد کے بھارت میں قیام کو ان کی جمہوری امنگوں کے خلاف بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے ساتھ خطرناک ساز باز کے طور پر دیکھتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں سابق وزیراعظم کوبنگلہ دیش واپس لایا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف وحشیانہ مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کا سامنا کر سکیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button