این آئی اے کورٹ نے کشمیری نوجوان کی درخواست ضمانت مسترد کردی
جموں: بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے جموں میںسوف شالی کوکرناگ کے رہائشی جان محمد تیلی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جو اس وقت بھارت کی آگرہ جیل میں نظر بند ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مقدمہ 6 فروری 2021 کو گنگیال پولیس اسٹیشن میں درج کیاگیا۔مقدمے کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کے اندر موجود ایک شخص جس کی شناخت بعد میں ہدایت اللہ ملک کے نام سے ہوئی، کوگرفتارکرلیا جبکہ اس کے ساتھ ایک خاتون بصیرت العین فرار ہوگئی۔ بصیرت العین کو بعد میں مارچ 2024 میں ضمانت مل گئی۔بعد ازاں تحقیقات کو این آئی اے نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور باقاعدہ کیس دوبارہ رجسٹر کیا گیا۔ اس کے بعد سے متعدد ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہیں، جن میں جان محمدتیلی بھی شامل ہے، جسے 10 فروری 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ تیلی پر الزام ہے کہ وہ ہدایت اللہ ملک کا قریبی ساتھی ہے، اس نے اسے کرائے کے کمرے میں پناہ دی جو جموں و کشمیر میں مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہے۔عدالت نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل جاری ہے اور ملزم کو رہا کرنے سے تفتیش اور عدالتی عمل میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے۔








