کشمیر ، ماﺅ نواز تحریک پر جو کچھ لکھا ، اس پر مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، گوتم نولکھا

نئی دہلی:سینئر بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا نے کہا ہے کہ انہیں کشمیر پر اپنی تحریروں، تصانیف پر کوئی شرمندگی یا پچھتاوا نہیں ہے ، انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ تجرباتی شواہد اور ایماندارانہ تجزیہ پر مبنی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق 73 سالہ نولکھا نے کہا کہ انہوںنے ہمیشہ اپنی رائے حقائق اور اصولی بنیاد پر قائم کی ہے اور ماو¿نواز تحریک اور کشمیر پر جو کچھ میں نے تحریر کیا ، مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تقریباً اپنی چھ سال کی حراست کے بعد دہلی واپسی پر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فوری توجہ گھر واپسی اور اپنی صحت کو سنبھالنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہامیرا سفر اب شروع ہوتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ کیسا گزرتا ہے۔ممبئی ہائی کورٹ کیطرف سے ضمانت کی شرائط میں نرمی اور انہیں ممبئی چھوڑنے کی اجازت دینے کے بعد نولکھا اپنی دہلی کی رہائش گاہ پر واپس آگئے۔ مودی حکومت نے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا ہے۔ بھیما کوریگاو¿ں مقدمے میں گرفتاری کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ گھر میں نظر بند اور تقریبا چار سال جیل میں گزارے۔ مقدمے کی ابتدائی تفتیش پونے پولیس نے کی تھی اور بعد میں یہ معاملہ بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کیا گیاتھا۔بھیما کوریگاو¿ں کیس ذات پات کے تشدد کو ہوا دینے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزامات سے متعلق ہے۔
گوتم نولکھا نے افسوس ظاہر کیا کہ مقدے کی کارروائی کے آغاز میں بلا جواز تاخیر کی گئی ۔ انہوںنے نئی دلی مسلم کش فسادات کے جھوٹے مقدمات میں گزشتہ چھ برس سے قید عمر خالد اور شرجیل امام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو بغیر کسی آزادانہ اور منصفانہ مقدمے کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا اور سالوں تک بند رکھنا انتہائی ظالمانہ ہے اوریہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہونا چاہیے۔نولکھا نے کہا کہ ان کے کیس میں، ایف آئی آر 2018 میں درج کی گئی تھی اور 2020 میں فرد جرم داخل کی گئی تھی۔ تاہم مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے لیے درکار الزامات کی باقاعدہ تشکیل ابھی باقی ہے۔








