کانگریس کا لہہ میں شہری ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
مودی نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیا: راہل گاندھی
نئی دہلی:بھارت میں کانگریس قیادت نے 24ستمبر کو لہہ میں مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اورسینئر رہنما راہول گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹس میں کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیاہے۔انہوں نے کہاکہ ہلاک ہونے والوں میں کرگل جنگ میں حصہ لینے والے تسیوانگ تھرچن بھی شامل ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پر تھرچن کے والد کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تسیوانگ تھرچن نے کرگل جنگ میں بھارت کا دفاع کیا، بدلے میں انہیں کیا ملا؟ لداخ میں مودی حکومت کی گولی! دونوں باپ بیٹے نے فوج کی خدمت کی۔کھرگے نے گلوان تصادم کے بعد چین کو کلین چٹ دینے پر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاجب لداخ کے گلوان علاقے میں ایل اے سی پر 20فوجی مارے گئے، تو مودی نے چین کوکلین چٹ دے دی۔ایسی حکومت کیسے تسیوانگ تھرچن جیسے بہادر سپاہیوں کی قربانی کا احترام کر سکتی ہے؟ یہ بی جے پی کی کھوکھلی قوم پرستی ہے۔راہول گاندھی نے بھی ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے کہاکہ باپ فوج میں، بیٹا فوج میں ،حب الوطنی ان کے خون میں دوڑ رہی ہے، پھر بھی اس بہادر بیٹے کو صرف لداخ کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے پر گولی مار دی گئی۔ مودی جی، آپ نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ تشدد اور خوف کی سیاست بند کریں۔انہوں نے کہاہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لداخ میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے تھرچن کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔انہوں نے کہا یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ وہ اور تین دیگر لوگ فائرنگ کرکے مارے گئے۔






