میانمار بھارت سرحد پر آسام رائفلز پر حملہ، تین اہلکار ہلاک
بھارتی فوج ” این ایس سی این“ کے حملوں سے سخت پریشان

اروناچل پردیش: میانمار-بھارت سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف آسام رائفلز کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک ناگا مسلح تنظیم ’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ“نے 26 مارچ کو شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے کیاایک مقامی شخص نے کہا کہ سرحد پر زبردستی باڑ لگائی جا رہی ہے جسے مقامی لوگ قبول نہیں کرتے۔ آسام رائفلز سیکیورٹی فراہم کر رہی تھی کہ اسی دوران حملہ ہوا، جس میں تین اہلکار مارے گئے۔پانساو کے علاقے میں سرحدی باڑ لگانے کا عمل بھارت کی جانب سے گزشتہ برس کے آخر میں شروع کیا گیا تھا، جس کے خلاف مقامی آبادی اور ناگا سول سوسائٹی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ اس منصوبے کے لیے آسام رائفلز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔جہاں باڑ لگائی جارہی تھی وہ میانمار کے علاقے ساگائنگ کے ضلع کھانتی، تحصیل نانیون میں واقع ہے اور یہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش سے ملحق ایک سرحدی شہر ہے۔
ناگا علیحدگی پسند گروپ”نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ“ ( این ایس سی این ) ماضی میں بھی متعدد بار بھارتی فوج کو نشانہ بنا چکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کا مقصد ناگا شناخت کو ختم کرنا ہے۔ بھارتی فوج لوگوں کے جذبات اور احساسات کو کچلنے کیلئے کالا قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ( اے ایف ایس پی اے ) کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے اور علاقے میں بے گناہ لوگوں کا ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی گرفتاریاںروز کا معمول ہے۔ سن 2000 سے اب تک بھارتی فورسز ناگالینڈ میں 800 سے زائد افراد کو ہلاک کر چکی ہیں” این ایس سی این“ اپنے جوابی حملوں میں بھارتی فوج کو مسلسل نشانہ بناتی رہی ہے ۔
رواں برس 26جنوری بھارتی یوم جمہوریہ پر بھی ”این ایس سی این“ نے آسام رائفلز کے کیمپ پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں کم از کم چھ بھارتی فوج ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے ۔ بھارت میانمار سرحد پر تنظیم کے بڑھتے ہوئے حملے ’این ایس سی این “ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور صلاحت کاغماز ہیں ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ”این ایس سی این“ ایک انتہائی فعال اور خطرناک علیحدگی پسند گروپ کا روپ دھار چکا ہے جوبھارت اور اسکی فورسز کیلئے دن بہ شدید پریشانی اور مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ قریبا گزشتہ 70برس سے بھارت سے آزادی اور ”ناگالم“ کے قیام کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ ناگا قبائلی افراد زیادہ تر ریاست ناگالینڈ میں بستے ہیں تاہم ان کی کچھ آبادی ریاست آسام، منی پور اور اروناچل پردیش میں بھی پائی جاتی ہے۔







