مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی ریاستی دہشتگردی بدستور جاری
سرینگر :غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںمودی حکومت اپنے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیراہے اوراس نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا گھنائونا کھیل بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فسطائی نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں مظلوم کشمیریوں کا دوران حراست قتل، گرفتاریاں اور تشدد معمول بن چکے ہیں۔بھارتی جریدے” دی کاروان” کی ایک رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی فورسز کے مظالم کا شکار کشمیریوں میں طالب لالی بھی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی ثبوت کے 10سال سے دہشتگردی کے الزام میں گرفتار رکھا گیا ہے اور ان کا مقدمہ بھی تاحال تاخیر کا شکار ہے۔دی کاروان کے مطابق بھارتی فورسزکی طرف سے عام کشمیریوں کوحریت پسندوں کے معاون (Over Ground Worker) قراردینا ایک معمول بن چکا ہے اور مودی حکومت نے OGW کا سہارا لے کر تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو بیروزگاری کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ محض شک کی بنیاد پر کشمیریوں سے روزگار اور شناخت چھین لی جاتی ہے۔ اسی طرح بغیر کسی عدالتی کارروائی یا تحقیقات کے کشمیریوں کے نام (Over Ground Workers)کی فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کے حکم پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیکڑوں کشمیری بلاجواز گرفتار ہیں اور دہشتگردی کے الزام میں گرفتار ان بے گناہ کشمیریوں پر کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہواہے۔دی کاروان کے مطابق بھارتی فوج گرفتار کشمیری نوجوانوں کے اہلخانہ کو بھی ہراساں کرتی ہے۔بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں شہید کیے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی لاشیں بھی لواحقین کو نہیں دیتی۔مودی نام نہاد قومی سلامتی کے نام پر کشمیریوں کے انسانی حقوق روندنے رہی ہے۔ صرف مئی 2025 میں 474سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو گرفتارجبکہ 17کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ پہلگام واقعے کے بعد کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتارکرنے کا سلسلہ تیز کیاگیا۔ اگرچہ کشمیریوں کیخلاف جعلی مقابلوں اور جھوٹے مقدمات پر عالمی اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے مگر مودی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔








