پاکستان

جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے: حریت کانفرنس

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے بھارت اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں جموں و کشمیر سے متعلق دیے گئے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام محمد صفی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بیان کردہ موقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے جو واضح طور پر کشمیر کے مسئلے کو ایک غیر طے شدہ تنازعہ تسلیم کرتی ہیں اور اس کے حل کے لیے کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری کو واحد راستہ قرار دیتی ہیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینا تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور عوامی خواہشات کے بالکل برعکس ہے۔ غلام محمد صفی نے افغان وزیرِ خارجہ کے بیان پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک برادر مسلم ملک کی جانب سے بھارت کے موقف کی تائید نہایت ہی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جیسے ملک کوجو خود بیرونی تسلط اور جنگوں کی تکالیف سے گزرچکاہے، چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ انصاف اور اصول کی بنیاد پر یکجہتی کا اظہار کرے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کوئی انتہاپسندانہ یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک جائز، اصولی اور منصفانہ جدوجہد ہے جو حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری ہے اور اسے اقوامِ متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1947 سے ریاست جموں و کشمیر پر جابرانہ قبضہ کررکھا ہے جسے کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ سات دہائیوں سے بھارت اپنی فوجی طاقت کے ذریعے لاکھوں کشمیریوں کو شہید، ہزاروں کو لاپتہ اور بے شمار کو بدنام زمانہ بھارتی جیلوں میں قیدکرچکا ہے۔ اب بھارت ایک نئی سازش کے تحت غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کر کے ریاست کے مسلم اکثریتی تشخص اور آبادیاتی تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔ غلام محمد صفی نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے غیر قانونی قبضے، انسانی حقوق کی پامالیوں اور آبادیاتی تبدیلیوں کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی پرامن، جائز اور اصولی بنیادوں پر جاری ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button