بھارت مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے ، بی جے پی رہنما کا اعتراف

سری نگر:بی جے پی کے ایک سینئر رہنما اور معروف کشمیری پنڈت اشونی کمار چرنگو نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے اور لاکھوں ہندووں کو باہر سے لاکر علاقے میں آباد کیا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اشونی کمار نے ایک بھارتی انگریزی روزنامے ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ کشمیرمیں بیرونی لوگوں کو لاکر یہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبادیاتی تبدیلی صرف کشمیر تک محدود نہیں ہے بلکہ بھارت کے ان حصوں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں ، میں بھی اس منصوبے پر کام ہو رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ان علاقوں میں مغربی بنگال بھی شامل ہے جہاں بی جے پی رہنما بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کی بات کھل کر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح سے آسام اور اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں بھی درجنوں مساجد ، مزارات اور مدارس کو مسمار کیا گیاہے۔
اشونی کمارنے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے اور اس حوالے سے پہلا اقدام دفعہ 370کا خاتمہ تھاجس نے باہر کے لوگوں کو علاقے میں زمین خریدنے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے سے روک رکھا تھا ۔انہوںنے کہا کہ اسکے بعد بہت سے انتظامی فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میںاس وقت ایک مقامی حکومت تو ہے لیکن اس میں ہمیشہ دلی کی مداخلت رہتی ہے ۔ کرنگو نے مقبوضہ علاقے میں مساجد کی حالیہ پرفائلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی حکومت علاقے میں ثقافتی تبدیلی لانے پر بھی کام کر رہی ہے۔







