منی پور : ہراسانی، آبروریزی کے مسلسل واقعات نے خواتین کو بااختیار بنانے کے مودی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی
سری نگر: شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں جاری قتل وغارت ، جلاﺅ گھیراﺅ اور خواتین کی آبروریزی کا بہیمانہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ہراسانی اور جنسی تشدد نے خواتین کو با اختیار بنانے کے مودی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے۔
۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ریاست میں جاری نسلی فسادات کے دوران خواتین کی حالت زار مسلسل تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ریلیف کیمپو ںمیں موجود خواتین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں ۔
2023 میں شروع ہونے والے ان فسادات میں خواتین کو خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے بہیمانہ سلوک کی گونج بین الاقوامی سطح پر سنی گئی۔جولائی 2023 مشتعل ہجوم کی جانب سے اقلیتی قبائل کوکی(عیسائی) خواتین کی برہنہ کر کے پریڈ کرانے ، نیز ان کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں ۔ یہ شرمناک عمل پوری دنیا میں بھارت کیلئے رسوائی کا سبب بنا تھا۔ متاثرہ خواتین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ریاست میں خواتین مسلسل خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی کی رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔ریاست میں خواتین پر ہونے والے مظالم نے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو اجاگر کیا ہے ۔
نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی بھارتی حکومت ایک طرف ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن ملک میں خواتین کی جو حالت زار ہے وہ حکومت کے دعوﺅںکا منہ چڑھا رہی ہے۔
منی پور کے ریلیف کیمپوں میں موجود خواتین کا کوئی پرساں حال نہیں ہے ۔انہیں مشکلات، خوف اور غیر یقینی صورتحال کا مسلسل سامنا ہے۔ ستم رسیدہ خواتین کا کہنا ہے کہ حکام نے ان کی حالت زار سے قطعی لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے اور انہیں مسلسل ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ہراسانی کے واقعات کی اطلاع حکام کو دیتی ہیں تو وہ شکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے الٹا ہم پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے مودی حکومت ملک میں خواتین کو با اختیار بنانے کے دعوے تو کر رہی ہے لیکن عملی طورپر ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف منی پور میں ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں خواتین اس وقت سخت خوف و دہشت اور ہراسانی کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک میں جنسی تشدد اور عصمت دری ایک قومی المیہ بن چکا ہے، مودی کے بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک عورت ریپ جیسے گھناونے جرم کا شکار ہوتی ہے۔






